تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 421

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 03 نومبر 1944ء جماعت اور حلقہ کو دے دیا جائے گا یا یوں کہنا چاہیے کہ اگر وہ یہ انعام نہ لینا چاہیں تو پھر یہ انعام اور علاقوں کو دے دیا جائے گا۔اسی طرح صوبہ سرحد اور صوبہ سندھ کے امراء اپنے اپنے صوبہ کی جماعتوں سے مشورہ کر کے اطلاع دیں کہ ان کا صوبہ کس حد تک یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے؟ جب ان دونوں کی طرف سے اطلاع آ جائے گی تو پھر ہم اندازہ کرسکیں گے کہ آیا دونوں صوبے مل کر اکیس ہزار پیہ کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں یانہیں۔اگر اس اندازہ سے کچھ کمی ہوئی تو پھر اور علاقہ ان کے ساتھ ملا دیں گے لیکن اگر یہ معلوم ہوا کہ یہ رقم اندازہ سے بہت کم ہے تو پھر یہ انعام ہم کسی اور علاقہ کو دے دیں گے۔اسی طرح دہلی کے حلقہ کے لئے دہلی مرکز ہے۔دہلی کی جماعت اپنے حلقہ کے لئے ضلع لدھیانہ ضلع انبالہ، ریاست پٹیالہ، یوپی اور بہار کی جماعتوں سے مشورہ کر کے اطلاع دے کہ آیا یہ صوبہ اکیس ہزار روپیہ کا بوجھ بغیر اس کے کہ دوسرے چندوں پر اس کا اثر پڑے، اپنے ذمہ لے سکتا ہے یا نہیں۔اگر ان کا جواب آیا کہ ہاں ہم آسانی سے لے سکتے ہیں تو پھر یہ انعام ان کو دے دیا جائے گاور نہ یہ انعام ہم کسی اور علاقہ کو دے دیں گے۔کلکتہ والوں نے خود ہی وعدہ کیا ہے، اس لئے ان کی طرف سے کسی اطلاع کی ضرورت نہیں۔البتہ ہماری طرف سے اجازت ہے کہ اگر وہ چاہیں تو بنگال کی جماعتوں کو ساتھ ملالیں۔حیدرآباد کے حلقہ کے لئے میں سکندر آباد اور حیدر آباد کی جماعتوں کے امراء اور سیکریٹریوں کو ذمہ دار بناتا ہوں کہ وہ میسور بمبئی اور مدراس کی جماعتوں کے امراء اور کارکنوں سے مشورہ کر کے اطلاع دیں۔اگر ان جماعتوں نے کہا کہ ہم یہ بوجھ اٹھا سکیں گے تو یہ انعام ان کے پاس رہنے دیں گے۔یا اگر انہوں نے کہا کہ فلاں حد تک اٹھا سکتے ہیں تو پھر اور قریب قریب کے علاقوں کو ان کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔اور اگر انہوں نے کہا کہ ہم یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے یاوہ اندازہ سے بہت کم اٹھا سکتے ہوں کیونکہ اس طرف جماعتیں بہت کم ہیں تو پھر ہم یہ انعام کسی اور علاقہ کو دے دیں گے۔پس ان سات جگہوں پر میں نے یہ انعام اپنی طرف سے تقسیم کر دیا ہے۔حکم کے طور پر نہیں بلکہ ان کی سہولت اور آسانی کے لئے کیونکہ خود حلقے مقرر کرنا ، جماعتوں کے لئے ناممکن تھا، تا کہ وہ اس انعام سے محروم نہ رہ جائیں۔ابھی بہت سے علاقے باقی ہیں، سیالکوٹ، گجرات ، جہلم، سرگودھا، لائل پور، ملتان، منٹگمری ، جالندھر، ہوشیار پور وغیرہ۔یہ سب اضلاع ابھی تک ریز رو کے طور پر رکھے ہیں تا کہ اگر دوسرے حلقوں میں سے بعض یہ پورا بوجھ نہ اٹھا سکیں اور ان کے چندوں میں کچھ کمی رہ جائے تو ان علاقوں میں سے کچھ حصہ ان کے ساتھ ملا دیا جائے یا اگر کوئی علاقہ یہ بوجھ نہ اٹھانا چاہے تو پھر وہ انعام ریز رو اضلاع کو دے دیا جائے۔متذکرہ علاقوں کے سوا اور بھی کئی علاقے ہیں، جن کو میں نے ریزرو کے طور پر رکھ لیا ہے۔پس یہ اعلان میں نے اس لئے کر دیا ہے تا کہ جن لوگوں کے دلوں میں اس تحریک میں حصہ لینے اور اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا جوش ہے ، وہ مایوس نہ ہوں۔تراجم کا خرچ پورا ہو چکا ہے مگر خالی ترجمہ 421