تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 419

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 03 نومبر 1944ء اس کے علاوہ قرآن مجید کے ایک ترجمہ کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ قادیان کی جماعت کے ذمہ لگا تا ہوں۔یہ دو تراجم کے خرچ کے علاوہ ہوگا۔اگر میری اور میرے خاندان کی حالت اس وقت ایسی ہوتی کہ ہم اپنے ذمہ ایک ترجمہ کی اشاعت کا خرچ علیحدہ لے سکتے تو میں اپنا حصہ الگ لے لیتا۔لیکن سر دست میں اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا، اس لئے سردست ہم بھی باقی جماعت قادیان کے ساتھ شامل ہو کر ایک ترجمہ کی اشاعت میں حصہ لیں گے۔قرآن مجید کے ایک ترجمہ کی چھپوائی کا خرچ اور ایک کتاب کی ایک زبان میں مکمل اشاعت کا خرچ میں لجنہ اماء اللہ کے ذمہ لگاتا ہوں۔لجنہ کی طرف سے بارہ ہزار کا وعدہ پہلے آچکا ہے، یعنی دو تراجم کرانے کا خرچ۔اس بارہ ہزار کو اس نئی ذمہ داری کے ساتھ ملایا جائے تو کل تینتیس ہزار و پیہ بنتا ہے۔اس رقم کا جمع کرنا ان کے لئے مشکل نہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر وہ اچھی طرح کوشش کریں تو تینتیس ہزار روپیہ سے بھی زیادہ جمع کر سکتی ہیں۔مسجد جرمن کے لئے ستر ہزار سے زیادہ روپیہ انہوں نے جمع کر لیا تھا اور اب اس وقت سے جماعت بھی زیادہ ہے اور مالی حیثیت کے لحاظ سے بھی پہلے کی نسبت اچھی حالت ہے۔اس لئے بغیر اس کے کہ دوسرے چندوں پر کوئی اثر پڑے، وہ یہ بوجھ آسانی سے اٹھا سکتی ہیں۔بلکہ حق یہ ہے کہ وہ اس سے زیادہ بوجھ اٹھاسکتی ہیں۔اگر لجنہ کی تنظیم اچھی ہو اور اچھا کام کرنے والیاں ہوں، جو پراپیگنڈا کریں اور چھٹیاں لکھیں تو وہ ایک لاکھ روپیہ بغیر کسی مشکل کے بڑی آسانی سے ادا کرسکتی ہیں۔ہماری جماعت میں دو تین سو آدمیوں کی بیویاں ایسی ہیں ، جو 100 100 روپیہ آسانی سے دے سکتی ہیں۔یہ سو، سور و پسیہ میں نے کم سے کم بتایا ہے ورنہ بعض ایسی بھی ہیں، جو تین تین، چار چار سو دے سکتی ہیں۔بعض ایسی ہیں، جو ہزار ہزار دے سکتی ہیں۔بہر حال ایسی مالدار عور تیں آسانی سے نہیں چالیس ہزار دے سکتی ہیں اور باقی متوسط طبقہ اور غرباء کو ملا کر آسانی سے ایک لاکھ روپیہ جمع ہو سکتا ہے کیونکہ مالدار طبقہ سے زیادہ چندہ غرباء کا ہوتا ہے۔غرباء کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔پس اگر ہماری جماعت کی غریب مستورات سے اٹھنی اٹھنی بھی جمع کی جائے تو پچاس ہزار روپیہ بن جائے گا۔پس عورتوں کے ذمہ ایک لاکھ روپیہ بھی لگا دیا جائے تو آسانی سے دے سکتی ہیں۔مگر چونکہ تحریک جدید بھی اور دوسری بھی بعض مدیں ہیں۔اس لئے فی الحال 21 ہزار روپیہ کی رقم ان کے ذمہ اور لگاتا ہوں۔12 ہزار کا ان کا پہلا وعدہ ہے، 21 ہزار روپیہ یہ ملاکر تینتیس ہزا رو پے ہو جائیں گے۔چوتھا حصہ حیدر آباد دکن، صوبہ مدراس اور بمبئی اور میسور کی جماعتوں کو دیتا ہوں۔گویا بمبئی، مدراس اور ان صوبوں سے ملحقہ ریاستیں یہ سب مل کر اکیس ہزار رو پیدا اپنے ذمہ لے لیں۔اگر یہ جماعتیں 419