تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 364
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم جار ہا بلکہ نجات کی طرف بلایا جاتا ہے، وہ توجہ نہیں کر سکتے۔پس ضروری ہے کہ ہمارے دوست علماء سے ملیں اور ان کو مناسب رنگ میں تبلیغ کریں۔ایک دوست نے اطلاع دی ہے کہ مولوی محمد شریف صاحب نے فلسطین سے لکھا ہے کہ جامعہ از ہر کا ایک بڑا عالم احمدی ہو گیا ہے۔مجھے مولوی صاحب کا ایسا کوئی خط نہیں ملا۔ممکن ہے رستہ میں کہیں گم ہو گیا ہو۔بہر حال اگر یہ خبر مسیح ہے (بعد میں میں نے خط پڑھ لیا ہے، خر صحیح ہے۔) تو بہت خوش کن ہے۔از ہر یونیورسٹی دنیا میں ایک ہی یونیورسٹی ہے، جہاں اسلام اور عربی زبان کی اعلی تعلیم کا انتظام ہے اور اگر اس کا ایک بڑا عالم احمدی ہو گیا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کا دروازہ اس رنگ میں بھی کھلنا شروع ہو گیا ہے اور اس یونیورسٹی کے علماء میں سے بھی احمدی ہونے شروع ہو گئے ہیں، جو اسلام کا گہوارہ سجھی جاتی ہے۔۔۔۔اس کے علاوہ میں دوستوں کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ تبلیغ نہایت ہی ضروری ہے، اس کے بغیر ہم آگے قدم نہیں اٹھا سکتے۔اس وقت ہماری تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ ایک صوبہ کو بھی سہار نہیں سکتی۔جب تک جماعت میں تھیں بلکہ سو گنا نہیں بڑھ جاتی ، ہم کوئی ایسا کام نہیں کر سکتے ، جس سے دنیا میں تہلکہ مچ جائے۔اس وقت ہماری تعداد 4۔5 لاکھ ہے۔جب تک یہ سو گنا نہ ہو جائے ، کوئی عظیم الشان کام مشکل ہے۔اگر تعداد 4۔5 یا چھ کروڑ ہوتو پھر ہم ایسے کام کر سکتے ہیں، جن سے دنیا میں تہلکہ مچ جائے۔اگر چہ اتنی تعداد بھی بہت کم ہے مگر جس ارادہ اور عزم کو لے کر ہم کھڑے ہوئے ہیں، جو آگ ہمارے دلوں میں لگی ہوئی ہے، جو چنگاریاں ہمارے سینوں میں چمک رہی ہیں، اگر اس قسم کے -5-4 یا 6 کروڑ افراد ہوں تو دنیا کو جلا کر راکھ کر سکتے ہیں۔گو ہمیں یقین ہے کہ اگر اتنے نہ ہوں، چند مخلصین ہی ہوں ، جن کے دلوں میں ویسا ہی درد ہو، جو ہمارے دلوں میں ہے تو ہم اربوں ارب دنیا پر غالب آ سکتے ہیں۔مگر اتنے زبر دست ایمان کے لوگ زیادہ پیدا نہیں ہوتے۔پس ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ تبلیغ کے لئے باہر نکلے۔اگر جماعتیں تبلیغ میں ستی نہ کرتیں تو کوئی شخص کا فرض ہے وجہ نہ تھی کہ ہر سال جماعت کی تعداد دگنی نہ ہو جاتی۔یہ امتحان اور آزمائش کا وقت ہے۔ہر شخص کہ اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر باہر نکل جائے اور تبلیغ کرے۔ہر گاؤں پستی ، شہر، محلہ، ہر مرد عورت اور بچے، بوڑھے کے لئے امتحان کا وقت ہے۔اگر وہ دین کو پھیلانے میں کوتاہی کرتا ہے تو وہ گنہگار ہے۔اور جو شخص چند ماہ بلکہ چند ہفتوں میں ہی اپنا قائم مقام پیدا نہیں کر سکتا، وہ سمجھ لے کہ اسے خدا تعالیٰ کی تائید حاصل نہیں۔اور جو وعدہ اس نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا، اسے پورا کرنے کے سامان اسے میسر نہیں ہیں۔364