تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 363

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 مئی 1944ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم سکتے تو اس قسم کی قربانی کے بغیر اسلام کی فتح کیسے ہو سکتی ہے؟ پس اس جنگ میں وہی جرنیل کامیابی کا منہ دیکھ سکے گا، جو یہ خیال کئے بغیر کہ کس طرح ماؤں کے دلوں پر چھریاں چلتی ہیں؟ باپوں اور بھائیوں، بہنوں کے دلوں پر چھریاں چل رہی ہیں؟ نو جوانوں کو قربانی کے لئے پیش کرتا جائے۔موت اس کے دل میں کوئی رحم اور درد پیدا نہ کرے۔اس کے سامنے ایک ہی مقصد ہو اور وہ یہ کہ اسلام کا جھنڈا اس نے دنیا میں گاڑنا ہے اور سنگدل ہو کر اپنے کام کو کرتا جائے۔جس دن مائیں یہ سمجھیں گی کہ اگر ہمارا بچہ دین کی راہ میں مارا جائے تو ہمارا خاندان زندہ ہو جائے گا، جس دن آپ یہ سمجھنے لگیں گے کہ اگر ہمارا بچہ شہید ہو گیا تو وہ حقیقی زندگی حاصل کر جائے گا اور ہم بھی حقیقی زندگی پالیں گے۔وہ دن ہوگا ، جب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو زندگی ملے گی۔جن نو جوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں، ان کو بلانا شروع کر دیا گیا ہے۔بعض کو بلایا گیا ہے اور بعض کو بلانے کی تیاری کی جارہی ہے اور جب مدرسہ کھلے گا، ان کو بلا لیا جائے گا۔لیکن جو نو جوان آئیں ، وہ عزم صمیم لے کر آئیں کہ وہ ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔وہ خوب یاد رکھیں کہ دین کی خدمت لیتے وقت کسی رحم سے کام نہیں لیا جائے گا۔اسلام کی جنگ جیتنے کا سوال وہی لوگ حل کر سکتے ہیں، جو ایسے سنگدل ہوں جیسے شاعروں کے معشوق سنگدل سمجھے جاتے ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اس سکیم کے ماتحت اگر اساتذہ اور طالب علم اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں تو جلد ہی علماء کی ایک ایسی جماعت تیار ہو سکتی ہے، جو اسلام کا جھنڈا بیرونی ممالک میں گاڑ سکے اور اسلام اور احمدیت کی تعلیم دلوں میں قائم کرنے میں کامیاب ہو سکے۔اس کے علاوہ ایک اور بات بھی ہے۔ہمار ا صرف یہی کام نہیں کہ علماء پیدا کریں بلکہ یہ بھی ہے کہ غیر احمدی علماء میں سے بھی ایک تعداد کو اپنے ساتھ شامل کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بعض علماء جماعت میں شامل ہوئے اور ان کے ساتھ ہزاروں لوگ جماعت میں شامل ہوئے۔مگر اس کے بعد غیر احمدی علماء کو اپنی طرف کھینچنے میں ہماری طرف سے بہت کو تا ہی ہوئی ہے۔اب میں نے اس بارہ میں بھی ہدایات دی ہیں اور ابھی بعض اور ہدایات دوں گا۔کوئی وجہ نہیں کہ اگر عوام احمدیت کو قبول کر سکتے ہیں تو علماء نہ کریں۔کوتا ہی ہماری طرف سے ہے۔کہتے ہیں العلم حجاب الاكبر۔بات یہ ہے کہ علماء اس طریق خطاب کو پسند نہیں کرتے ، جس سے عوام کو خطاب کیا جاتا ہے۔وہ ذراذراسی بات پر اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔جب تک ان کو اس طرح خطاب نہ کیا جائے کہ وہ محسوس کریں کہ ہمیں رسوا نہیں کیا 363