تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 365

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 مئی 1944ء یہ ممکن نہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی آواز کو لے کر جائیں اور لوگ اس کی طرف توجہ نہ کریں۔ضرور ہے کہ وہ موافقت کریں یا مخالفت۔وہ یا تو پھر برسائیں گے یا عقیدت کے پھول، درمیانی رستہ کوئی نہیں۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ دنیا میں کوئی نبی آیا ہو یا کوئی مصلح کھڑا ہوا ہو اور دنیا نے اس سے اغماض کیا ہو۔یا تو اسے پتھر مارے جاتے ہیں یا عقیدت کے پھول برسائے جاتے ہیں۔بات صرف یہ ہے کہ حقیقت کو کھول کر لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا۔ایک شخص نے مجھے ایک دفعہ لکھا کہ میں اتنی مدت سے آپ کو خط لکھ رہا ہوں ، آپ میری طرف توجہ کیوں نہیں کرتے ؟ کم سے کم میری مخالفت ہی کریں۔یہ خط دیکھ کر میرے دل میں یہ لالچ پیدا ہوا کہ میں اس کا جواب دوں۔چنانچہ میں نے لکھوایا کہ مخالفت بھی اللہ تعالیٰ کے انعاموں میں سے ایک انعام ہے۔جو اللہ تعالیٰ کے ماموروں کو ملتا ہے، آپ اس سے محروم ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اب عزت دو ہی طریقوں سے حاصل ہو سکتی ہے، میری بیعت میں شامل ہو کر یا میری مخالفت کر کے، درمیانی طبقہ یعنی خاموش رہنے والے لوگ کوئی عزت نہیں پاسکتے۔اور چونکہ عام طور پر لوگوں میں عزت حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے، اس لئے ان دونوں صورتوں میں سے ایک نہ ایک ضرور اختیار کرتے ہیں۔یا بیعت میں شامل ہو جاتے ہیں اور یا مخالفت کرنے لگتے ہیں۔صداقت کو کھلے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔اگر سننے والے نہ مانتے ہیں اور نہ ہی مخالفت کرتے ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تم صداقت کو پیش کرنے میں مداہنت سے کام لیتے ہو۔میں جب پچھلے دنوں دہلی گیا تو وہاں ایک بہت بڑے سرکاری عہدیدار جو مسلمانوں کے لیڈر بھی ہیں، مجھ سے ملنے آئے اور کہا کہ لنڈن میں آپ کے مولوی شمس صاحب ہیں۔وہ ہیں تو بہت اچھے آدمی مگر آخر مولوی ہی ہیں نا۔وہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھتے۔وہ گویا مجھے تحریک کر رہے تھے کہ آپ بڑے آدمی ہیں، آپ کو اس نقص کی اصلاح کرنی چاہیے۔ان کی بات سن کر پہلے تو میں نے ان کو امامکم منکم والی حدیث سنائی اور اس کا مطلب سمجھایا۔پھران سے کہا کہ آخر آپ لوگ فیصلہ کیوں نہیں کرتے کہ آپ کے لئے احمدیت کو ماننا ضروری ہے یا نہیں؟ پھر میں نے انہیں کہا کہ آپ لوگوں کے پاس کھٹی لسی ہے اور میرے پاس خالص دودھ۔جو خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔اگر میں آپ کی دس ہزار سیر کھٹی لسی میں اپنا ایک سیر خالص دودھ ڈال دوں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں خالص دودھ کا ایک قطرہ بھی نہ رہے۔آپ کو تو چاہیے تھا کہ آپ اگر کسی احمدی کو غیر احمدیوں میں ملتا ہوا دیکھتے تو گھبرائے ہوئے آتے اور میرے پاس شکایت کرتے 365