تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 345

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد دوم ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء بعد ہم ادنیٰ سے ادنی تبلیغی مرکز ہندوستان میں کھول سکتے ہیں۔اور یہ ابھی صرف شہر ہیں، دیہات کا حساب نہیں کیا گیا۔حالانکہ دیہات کی طرف ہمارا توجہ کرنا اور بھی ضروری ہے۔اس سے کم توجہ کے کوئی معنی ہی نہیں ہو سکتے اور اگر ہم کم توجہ کریں تو دنیا کی آبادی کے مقابلہ میں یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی شخص شہر کی ایک تنگ گلی کے ایک چھوٹے سے مکان میں ایک تنگ کو ٹھری میں دروازے بند کر کے شور مچانا شروع کر دے۔ابتداء میں جب ہم نے احمدیت کا اعلان کرنا تھا، یہ صورت ہمارے لئے کافی ہو سکتی تھی۔مگر موجودہ صورت میں چالیس مبلغوں اور ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ سے کم میں ہندوستان کے شہروں میں تبلیغ کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں بنتے۔پھر جہاں چالیس مبلغ ہوں گے، وہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض دفعہ کوئی بیمار ہو جائے یا ان میں سے کوئی چھٹی پر چلا جائے۔ان امور کو دیکھتے ہوئے ، در حقیقت دس مبلغ ہمیں زائد ر کھنے پڑیں گے تا کہ جو لوگ چھٹی پر آئیں ، ان کی جگہ وہ اس عرصہ میں تبلیغ کر سکیں۔بلکہ چالیس مبلغوں کے لحاظ سے دس مبلغ ریز اور کھنے بھی کم ہی ہیں۔اصل میں ہیں مبلغ ہونے چاہئیں۔بہر حال دس ہی سمجھ لوتو پچاس ہو گئے۔دس مبلغوں کو ان اچانک پیش آنے والی ضروریات کے لئے اگر مرکز میں رکھا جائے تو چونکہ ان کے اخراجات اتنے نہیں ہو سکتے ، جتنے ان مبلغوں کے اخراجات ہو سکتے ہیں، جو باہر رہتے ہیں، اس لئے میں سمجھتا ہوں ان کے لیے بیس ہزار روپیہ میں زائد رکھنا چاہئے۔گویا ایک لاکھ ستر ہزار روپیہ ہو گیا۔یہ کم سے کم وہ تبلیغی اخراجات ہیں، جو ہندوستان کے بعض شہروں پر ہو سکتے ہیں۔لیکن اس رقم میں لٹریچر کے اخراجات صرف نام کے طور پر رکھے گئے ہیں۔ان اخراجات سے ایسا لٹریچر شائع نہیں کیا جا سکتا ، جو سارے ہندوستان میں شور مچادینے والا ہو۔اگر اس کو بھی مدنظر رکھ لیا جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ اڑھائی ہزار روپیہ ماہوارزائد طور پر ایسے لٹریچر کے لئے رکھنا چاہیے تو میں ہزار روپیہ سالانہ ہو گیا اور ایک لاکھ ستر ہزار میں شامل کر کے پورا دولاکھ روپیہ بن گیا۔یہ تو صرف ہندوستان کے شہروں کی تبلیغ کا اندازہ ہے۔گاؤں کی تبلیغ اس کے علاوہ ہے۔گاؤں کی آبادی شہروں سے نو گنے زیادہ ہے مگر چونکہ وہاں خرچ شہروں سے کم ہوتا ہے۔اگر پانچ گنے زیادہ خرچ گاؤں کی تبلیغ کا رکھا جائے تو ہندوستان کی تبلیغ کے لئے ، جو معمولی ہوگی۔پچاس شہری مبلغ اور ساڑھے سات سو گاؤں کے مبلغ اور بارہ لاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہوگی۔اب رہی باہر کی تبلیغ ، میں نے سوچا ہے کہ بیرونی ممالک میں سے انگلستان سب سے مقدم ہے۔اسی ملک کے لوگ ہندوستان میں آئے اور انہوں نے ہمارے ملک کو فتح کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی انگلستان کے متعلق بڑی بڑی پیشگوئیاں ہیں اور ان پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جلد یا۔345