تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 344

ملفوظات فرموده یکم مئی 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم پنجاب مرکز ہے احمدیت کا اور اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ لاہور، راولپنڈی اور ملتان خاص اہمیت رکھتے ہیں اور اس لئے کہ وہاں سے کہ بیعت شروع ہوئی تھی ، لدھیانہ ہے، لدھیانہ بھی اہم مقام ہے اور اس وجہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پہلے زیادہ تر سیالکوٹ میں رہے ہیں ، سیالکوٹ بھی خاص توجہ چاہتا ہے، اسی طرح امرتسر پنجاب میں مشہور شہر ہے۔یہ چھ جگہیں ایسی ہے ، جہاں ہمیں چھ مبلغ رکھنے چاہئیں۔ایک مبلغ چونکہ صوبہ کے لحاظ سے آ گیا تھا، اس لئے اس کو نکال کر چھپیں مبلغ ہو گئے۔اس کے بعد یوپی لے لیا جائے۔یوپی اس لحاظ سے کہ کسی زمانہ میں مسلمانوں کا مرکز رہا ہے، زیادہ توجہ کا محتاج ہے۔گو وہاں مسلمان اب کم ہیں مگر پھر بھی لکھنو، الہ آباد کا نپور اور بنارس خاص جگہیں ہیں، اگر صوبہ کا ایک مبلغ نکال دیا جائے تو تین مبلغ اور بڑھ گئے گویا چھپیں اور تین اٹھائیس ہو گئے۔بنگال میں ڈھا کہ اور کلکتہ کے علاوہ میمن سنگھ ایک اہم جگہ ہے اور مسلمانوں کا مرکز ہے، وہاں مولوی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ان مقامات میں کم سے کم ہمیں دو مرکز قائم کرنے چاہئیں۔اٹھا ئیں پہلے تھے دو یہ ہو گئے گویا میں مبلغ ہو گئے۔سندھ میں حیدر آباد ایسا شہر ہے، جہاں مستقل مرکز کی ضرورت ہے کیونکہ وہاں سے تاجر ساری دنیا میں پھیل جاتے ہیں۔اس طرح اکتیس مبلغ ہو گئے۔بمبئی میں احمد آباد اور پونہ خاص مقام ہیں۔اگر ان کو بھی شامل کر لیا جائے تو تینتیس ہو گئے۔مدراس میں مالا باروہ جگہ ہے، جہاں احمدیت کی ابتدا ہوئی۔دوسرا اہم شہر مدراس میں مڈورا ہے ، جو پانچ لاکھ کی آبادی رکھتا ہے۔ان دو کو شامل کر کے پینتیس مبلغ ہو گئے۔ان میں سے بعض شہر ایسے ہیں، جن میں ایک ایک مبلغ کافی نہیں ہو سکتا۔جیسے کلکتہ ہے یا بمبئی ہے یا اسی طرح کے بعض دوسرے شہر ہیں۔اگر ان شہروں کے لئے ، جن میں دلی بھی شامل ہے، پانچ اور مبلغ رکھے جائیں تو چالیس مبلغ ہو گئے۔چالیس مبلغوں کے لئے اگر ان شہروں کے اخراجات کو مد نظر رکھا جائے۔مکانات کا کرایہ دیکھا جائے اور ادھر ادھر پھرنے پر جو اخراجات ہوتے ہیں، ان کو محوظ رکھا جائے تو در حقیقت دو سو روپیہ فی مبلغ خرچ کا اندازہ ہے۔پھر خالی مبلغ رکھنا کافی نہیں ہو سکتا بلکہ تبلیغ کے لئے ٹریکٹوں وغیرہ کی اشاعت بھی ضروری ہوتی ہے۔ایسے کاموں کے لئے اگر سور و پیہ ماہوار رکھا جائے تو تین سور و پیہ ماہوار ایک مبلغ پر خرچ آسکتا ہے۔چالیس کو تین سو سے ضرب دی جائے تو بارہ ہزار روپیہ ماہوار یا ایک لاکھ چوالیس ہزار روپیہ سالانہ خرچ ہوتا ہے۔اگر چھ ہزار روپیہ بعض اور تبلیغی ضروریات کے لئے رکھ لیا جائے کیونکہ بعض دفعہ فوری طور پر ایسے اخراجات آپڑتے ہیں، جن کا خیال تک نہیں ہوتا تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ کے 344