تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 346
ملفوظات فرموده تیم مئی 1944ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم بدیر انگلستان کے لئے اسلام لا نا مقدر ہے۔اس وقت وہاں ہمارا صرف ایک مبلغ رہتا ہے اور ساڑھے چار کروڑ کی آبادی ہے۔ایک مبلغ چار کروڑ کی آبادی والے ملک میں رکھنا کوئی معنی ہی نہیں رکھتا اور پھر اس ایک مبلغ کے لئے بھی ہم صحیح طور پر تبلیغی سامان ہم نہیں پہنچار ہے۔اگر وہ مبلغ سال میں صرف ایک دفعہ دو صفحے کا اشتہار شائع کرے تو چار کروڑ کی آبادی میں ایک کروڑ اشتہار شائع ہونا چاہئیں۔اگر ایک صفحہ کے ایک ہزار اشتہار کی صرف ایک روپیہ قیمت سمجھی جائے تو دو صفحہ کا اشتہار دوردوپیہ میں ہزار چھپے گا اور چونکہ ہم نے ایک کروڑ اشتہار شائع کرنا ہے، اس لئے ایک کروڑ کے لئے ہیں ہزار روپیہ ضروری ہوگا۔گویا اگر ہم ن مبلغ کو بیس ہزار روپیہ دیں تو وہ اس کے ذریعہ سال میں صرف ایک دفعہ انگلستان کے ہر آدمی تک پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ بچوں وغیرہ کو نکال دیا جائے۔میں نے سوا دو کروڑ بچوں وغیرہ کو نکال کر بقیہ آبادی کے نصف پر اندازہ لگایا ہے۔مگر سال میں ایک دفعہ اشتہار پہنچنے پر کسی کو کوئی خاص توجہ نہیں ہو سکتی۔ضروری ہے کہ بار بار اشتہارات شائع کئے جائیں۔اس نقص کے ازالہ کے لئے اگر ہم صرف میں لاکھ آدمیوں تک اپنی آواز پہنچا ئیں اور یہ فرض کر لیں کہ ان میں سے ہر شخص آگے پانچ پانچ آدمیوں کو وہ اشتہار پہنچا دے گا اور اس طرح ایک کروڑ آدمیوں تک ہماری آواز پہنچ جائے گی تو سال میں میں لاکھ اشتہار ہم پانچ دفعہ شائع کر سکتے ہیں۔بجائے اس کے کہ یکدم ایک کروڑ اشتہار شائع ہو، اس صورت میں ہیں ہزار روپیہ کے ذریعہ ہم ملک کی چوتھائی آبادی تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں۔بلکہ در حقیقت ہم صرف بیسیویں حصہ تک آواز پہنچائیں گے۔آگے یہ امید کرلیں گے کہ وہ اور لوگوں کو بھی یہ پیغام پہنچا دیں گے۔گویا اگر ہم انگلستان کے مبلغ کو بیس ہزار روپیہ لٹریچر کے لئے دیں ، تب وہ مبلغ تھوڑا بہت کام کرتا ہوا نظر آسکتا ہے۔مگر واقعہ یہ ہے کہ ہم اسے ہیں ہزار تو کجا دو سوروپیہ بھی نہیں دیتے۔گویا وہ وہاں بیٹھا صرف روٹی کھا رہا ہے۔پھر تبلیغ کے لئے صرف اشتہار ہی کافی نہیں ہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں سے ملا جائے ، ان سے ذاتی طور پر واقفیت پیدا کر کے انہیں تبلیغ کی جائے مگر اتنا بڑا ملک، جو ایک لمبے عرصہ سے دنیا کی آلائشوں میں ملوث چلا آرہا ہے اور دنیا کی محبت اس پر غالب ہے ، ان کے پاس ایک آدمی کس طرح پہنچ سکتا ہے؟ پس میں نے یہ سوچا ہے کہ وہاں ہمارے کم سے کم پانچ مبلغ ہونے چاہئیں۔دو مبلغ ہر وقت لنڈن میں رہیں اور دو مبلغ مختلف شہروں میں دورہ کرتے رہیں اور جولٹر بچر وغیرہ شائع ہو، اسے لوگوں میں تقسیم ہیں تا کہ بار بار کے دوروں سے لوگوں کے دلوں میں یہ تحریک پیدا ہو کہ فلاں اشتہار ، جو ہمیں ملا تھا، اس کا لکھنے والا مولوی بھی آج یہاں آیا ہوا ہے، اس سے ہم ذاتی طور پر بھی مل لیں اور پوچھیں کہ وہ کیا کہتا 346