تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 330

اقتباس از خطبه نکاح فرموده 10 اپریل 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ اپنی حماقت کی وجہ سے اس بات پر ناراض ہو جاتے ہیں کہ ہماری لڑکی کا رشتہ فلاں نے کیوں نہیں لیا ؟ حالانکہ یہ اس کا حق تھا کہ وہ جس کو چاہے، لے اور جس کو چاہے، رد کر دے۔اسی طرح لڑکی والوں کا حق ہے کہ وہ جس کو چاہیں، رشتہ دیں اور جس کو چاہیں، رد کر دیں۔سوائے اس کے کہ رشتہ سے انکار کرنے کی بنیاد یہ نہ ہو کہ چونکہ اس نے دین کے لئے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے، اس لئے ہم اسے رشتہ نہیں دیتے۔اگر وہ ایسا کہے تو اس کے معانی یہ ہوں گے کہ وہ شخص جو دین کے لئے قربانی نہیں کرتا، وہ شخص جو دین کے لئے اپنے اوقات کو صرف نہیں کرتا ، وہ شخص جو اس بارہ میں کوشش اور جدو جہد سے کام نہیں لیتا وہ تو اس کے نزدیک معزز ہے اور وہ شخص جو دین کے لئے قربانی کرتا ہے، وہ ذلیل ہے۔اور یہ ایک ایسی بات ہے جسے کوئی منظمند قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔اسی طرح وہ واقف جس کے سامنے غریب لڑکیوں کے رشتے پیش کئے جاتے ہیں تو وہ انکار کر دیتا ہے اور امیروں پر چھاپا مارنے کے لئے تیار رہتا ہے، اس کا طریق عمل بھی صریحا غلط ہے۔اور اس کو صحیح تسلیم کرنے کے معنی یہ ہوں گے کہ نیکی اور تقوی مالداروں میں ہی ہوتا ہے، غربا میں نہیں ہوتا۔آخر جب وہ کہے گا کہ میں فلاں غریب لڑکی کا رشتہ نہیں لیتا تو کیا کہے گا؟ یہی دلیل دے گا کہ اس میں نیکی کم ہے۔تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ غربا نیک نہیں ہوتے صرف امراء ہی نیک ہوتے ہیں۔اور یہ بات بھی بالبداہت باطل ہے۔اور اگر غربا میں بھی نیکی ہوتی ہے، ان میں بھی تقوی ہوتا ہے، ان میں بھی تعلیم ہوتی ہے، ان میں بھی دیانت ہوتی ہے تو اس کا غریب رشتہ لینے سے انکار کرنا سوائے اس کے کوئی مفہوم نہیں رکھتا کہ یہ بھی دنیادارانہ خیالات اپنے اندر رکھتا ہے۔پس دونوں فریق کا یہ طریق عمل عقل اور حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔اگر کوئی امیر اپنا پیچھا چھوڑانے کے لئے یہ کہتا ہے کہ شریعت نے بے شک دین اور نیکی کو مقدم قرار دیا ہے مگر مجھے دین ان دینداروں میں نظر نہیں آتا، مجھے تو دنیا داروں میں دین نظر آتا ہے تو تم خود ہی سوچ لو کہ اس کا یہ فقرہ کتنا غیر معقول اور حقیقت سے کتنا دور ہوگا ؟ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ مجھے دینداروں میں دیندار نظر نہیں آتا تو اس کی یہ بات ایسی ہی ہوگی جیسے کوئی کہے کہ سفید تا گوں میں مجھے کوئی سفید تا گا نظر نہیں آتا یا سیاہ تاگوں میں مجھے کوئی سیاہ تا گا نظر نہیں آتا یا یہ بات ایسی ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ہندؤوں میں مجھے کوئی ہندو نظر نہیں آتا، مسلمانوں میں مجھے کوئی مسلمان نظر نہیں آتا۔اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو یہ اس کے جنون کی علامت ہوگی ، اس کی عقل کا ثبوت نہیں ہوگا کہ دینداروں میں مجھے کوئی دیندار نظر نہیں آتا لیکن دنیا داروں میں مجھے دیندار 330