تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 331

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه نکاح فرمود و 10 اپریل 1944ء نظر آتے ہیں۔اسی طرح کسی واقف زندگی کا یہ طریق عمل اختیار کرنا کہ جب غریب لڑکیوں کے رشتے اس کے سامنے پیش ہوں تو وہ کہہ دے کہ ان میں نیکی اور تقویٰ کم ہے، بتاتا ہے کہ اس کے نزدیک امراء میں تو نیکی ہوتی ہے غرباء میں نیکی نہیں ہوتی۔پس ان الفاظ سے یہ دونوں اپنے جھوٹے ہونے ،اپنے غیر متقی ہونے اور اپنے مشرک ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور دونوں دنیا پر نگاہ رکھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔یہ چیز ہے، جس کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔ہماری جماعت میں لاکھ پتی یا کروڑ پتی تو کوئی ہے نہیں۔صرف چند لوگ ایسے ہیں، جو اچھے کھاتے پیتے اور امراء میں شامل ہیں۔لیکن ان لوگوں کی ذہنیت یہی ہے کہ اگر کوئی واقف زندگی اپنی حماقت اور بے وقوفی سے ان کے سامنے رشتہ کی درخواست پیش کر دے تو وہ یوں سمجھتے ہیں کہ گویا انہیں بازار میں کھڑا کر کے جوتیاں ماری گئی ہیں۔اس کے مقابلہ میں جو واقف ہیں ، ان کی یہ حالت ہے کہ جب غریب لڑکیوں کے رشتے ان کے سامنے پیش کئے جائیں تو وہ ان میں کئی کئی نقص نکالیں گے۔کبھی کہیں گے تقویٰ اعلیٰ درجہ کا نہیں کبھی کہیں گے تعلیم زیادہ اعلیٰ نہیں، کبھی کہیں گے سلسلہ سے انہیں محبت کم ہے۔لیکن جہاں کسی کھاتے پیتے آدمی کا رشتہ ان کے سامنے آجائے وہ فورا کہہ دیں گے، ہاں ، یہ ٹھیک ہے۔یہ لڑکی نیک اور دیندار ہے۔اس وقت انہیں نیکی بھی نظر آنے لگ جائے گی ، اتقاء بھی نظر آنے لگے جائے گا تعلیم بھی نظر آنے لگ جائے گی اور وہ اس رشتہ پر رضامند ہو جائیں گے۔پس دونوں کا طریق عمل بالکل غلط، ناجائز اور خلاف اصول ہے۔جب تک دونوں فریق اپنی اپنی اصلاح نہیں کریں گے، اس وقت تک اس نقص کا ازالہ نہیں ہو سکے گا۔یاد رکھو، دنیا انہی لوگوں کے پیچھے پھرا کرتی ہے جو دنیا کو کلی طور پر چھوڑ دیتے ہیں۔وہ خدا کے لئے دنیا چھوڑتے ہیں اور دنیا کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے بھاگتی پھرتی ہے اور انسان حیران ہوتا ہے کہ اب میں جاؤں کہاں؟ لیکن جب تک دنیا پر نگاہ رکھی جائے، دنیا آگے آگے بھاگتی ہے اور انسان اس کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہے مگر پھر بھی دنیا اسے حاصل نہیں ہوتی۔یہ تقریب چونکہ ایک واقف زندگی کے نکاح کا اعلان کرنے کی غرض سے تھی ، اس لئے میں نے یہ باتیں کہہ دی ہیں تا کہ جماعت کی اصلاح اور اس کے حالات کی درستی کا موجب ہوں۔میں نے اعلان کیا ہوا ہے کہ میں سوائے اپنے عزیزوں کے اور کسی کا نکاح نہیں پڑھاؤں گا مگر چونکہ یہ واقف زندگی ہیں اور اس وجہ سے یہ میرے عزیزوں میں ہی شامل ہیں، اس لئے میں اس نکاح کا اعلان کر رہا ہوں“۔مطبوع الفضل 22 جون 1944ء) 331