تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 329

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از : غیر نبی کے لیے بھی اگر کسی کو پندرہ رشتے ملتے ہوں تو خواہ وہ کسر میاں از خط اپریل ہوں ، وہ پندرہ میں سے ایک کو انتخاب کرنے کا ضرور حق رکھتا ہے۔اور میرے نزدیک وہ لوگ بھی نادان ہیں، جو دوسرے کو مجبور کرتے ہیں کہ ضرور فلاں رشتہ لو۔جب شریعت کا فیصلہ یہ ہے کہ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ تو بہر حال شادی کرنے والے کی مرضی کو مقدم رکھا جائے گا اور یہ صورت اسی وقت ہوگی ، جب اسے نسا مل رہی ہوں گی اور جب اسے نسا مل سکتی ہوں تو ایسی صورت میں ماطاب لکم کو حوظ رکھنا بھی ضروری ہوگا۔پس وہ شخص جو کسی کو مجبور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ضرور فلاں جگہ رشتہ کرو یا ضرور میری لڑکی لو وہ بھی نادان ہے۔جب خدا نے یہ کہہ دیا ہے کہ فانکحو اما طاب لکم تو تم کون ہو، جو مجبور کرو؟ نہ لڑکے والوں کو اس بات پر مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ضرور فلاں جگہ رشتہ کریں، نہ لڑکی والوں کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ضرور فلاں جگہ رشتہ کریں۔دونوں کے لیے ماطاب لکم کے الفاظ ہیں۔جس طرح مردوں کو اس بات میں آزادی حاصل ہے کہ وہ وہیں رشتہ کریں، جہاں ان کی پسندیدگی کو دخل ہے۔اسی طرح لڑکی والوں کو بھی اس بات میں آزادی حاصل ہے کہ وہ وہیں رشتہ کریں، جہاں وہ پسند کرتے ہوں۔قرآن کریم میں صاف کہا ہے کہ جیسے مردوں کو ہم نے حقوق دیئے ہیں، ویسے ہی عورتوں کو حقوق حاصل ہیں۔پس ما طاب لکم کا حکم مرد کے لیے بھی ہے اور عورت کے لیے بھی ہے۔لیکن جہاں تک تمدنی درجہ کا سوال ہے، اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ لڑکی غریب ہے یا امیر۔اور اگر وہ ہمیشہ اپنے سے اوپر درجہ والے کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے، اگر وہ چاہتا ہے کہ اس کی شادی کسی امیر کے ہاں ہو، کسی کھاتے پیتے اور معزز آدمی کے ہاں ہو۔غریب کے ہاں اگر اس کی شادی کی تجویز کی جائے تو وہ برا مناتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ابھی اس کے دل میں شرک باقی ہے اور وہ دنیا ہی کا پرستار ہے۔فرق صرف یہ ہوگا کہ دوسرا شخص دنیا کی زیادہ پرستش کرتا ہے اور یہ کچھ کم کرتا ہے مگر ہوگا دنیا دار ہی۔حالانکہ انسان کو جو رشتے مل سکتے ہوں، اس کا فرض ہے کہ وہ ان میں سے ایک کو منتخب کر لے اور بجائے یہ دیکھنے کے کہ امیر کون ہے اور غریب کون؟ وہ صرف یہ دیکھے کہ میری ضرورتیں کیا ہیں؟ اور کس قسم کا رشتہ میری ان ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے؟ مثلاً اگر کسی لڑکی میں دینی تعلیم پائی جاتی ہے یا وہ تقوی اور طہارت اپنے اندر رکھتی ہے تو اس قدر خوبیوں کا پایا جانا کافی ہے۔ہاں اگر اس قسم کے دس ہیں رشتے اس کے سامنے ہوں تو پھر بے شک اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فلاں رشتہ لو۔یہ اس کا اپنا اختیار ہے کہ ان میں سے جس کو چاہے، پسند کر لے۔329