تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 311

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء چاہئے تھا کہ اگر انہیں سو سال کی زندگی ملتی تب بھی اس سو سال کی زندگی میں انہیں اتنا ثواب نہ ملتا، جتنا ثواب وہ ایک سال میں حاصل کر گئے۔مگر بجائے اس کے کہ محنت اور اخلاص اور دیانتداری کے ساتھ کام کیا جاتا ، وہاں جو لوگ کام کرنے کے لئے بھیجے گئے ، انہوں نے محنت اور توجہ سے کام نہیں کیا۔بے شک ہم نے اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ آدمی وہاں نہیں بھجوائے ، ہم نے اب تک انہی لوگوں کو بھیجا ہے، جن کی تعلیم ادنی تھی مگر بہر حال ایمان اور اخلاص تعلیم پر مخصر نہیں۔صحابہ میں کون سی تعلیم تھی ؟ مثلاً حضرت ابو ہریرہ کہاں تک پڑھے ہوئے تھے؟ انہوں نے تعلیم نہ ہونے کے باوجود کام کیا اور ایسے اخلاص سے کام کیا کہ آج تک ان کے نام زندہ ہیں اور ان کے لئے دعائیں کرنے والے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔اسی طرح ان لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے تھا کہ اگر سلسلہ کے لئے چوبیس گھنٹوں میں سے بائیس گھنٹے انہیں کام کرنا پڑتا ہے، تب بھی انہیں کام کرنا چاہئے۔وہ اپنے لئے موت پسند کر لیتے مگر چو ہیں گھنٹوں میں سے بائیس گھنٹے ہی سلسلہ کے لئے وقف کر دیتے اور سمجھتے کہ جو بنیاد آج ہم اپنے ہاتھوں سے رکھ رہے ہیں ، اسی پر وہ عمارت تیار ہونے والی ہے، جو اسلام کی اشاعت کے لئے ضروری ہے۔سینکڑوں مبلغ اس کی آمد سے رکھے جائیں گے اور ہر مبلغ جودنیا میں اسلام کی تبلیغ کرے گا، اس کا ثواب ہمیں ملے گا۔ایک مبلغ کو صرف اس کوشش کا ثواب مل سکتا ہے، جو وہ کرے۔لیکن سلسلہ کی زمینوں پر اگر لوگ محنت کی سے کام کریں تو انہیں سینکڑوں مبلغوں کا ثواب حاصل ہو سکتا ہے۔کیونکہ انہی کی محنت کے نتیجہ میں تبلیغ کو وسیع کیا جارہا ہوگا۔یہ وہ احساس ہے، جس کے ماتحت انہیں کام کرنا چاہئے تھا۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں جس قدر کام کرنے کے لئے بھجوائے گئے ، ان میں سے کسی نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اور بجائے اس کے کہ ان کے ذریعہ سلسلہ کے اموال میں برکت ہوتی ، وہ اس طرف مشغول ہو گئے کہ کہیں اپنی بھینسوں کے لئے چارہ کا انہیں فکر ہے، کہیں انہیں اپنی گھوڑیوں کا فکر ہے، کہیں دوسروں کو ڈانٹنے اور ان پر جرمانہ کرنے کا انہیں ہر وقت خیال رہتا ہے۔گویا جو اصل کام تھا ، وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا اور دنیا داری میں ملوث ہو گئے اور یہی حال احمدی باریوں کا ہے۔انہوں نے وہاں کوفہ کے بدفطرت لوگوں کا نمونہ دکھایا ہے اور نیک احمدیوں کا نمونہ نہیں دکھایا۔مگر وہ خوش نہ ہوں کہ انہوں نے کچھ کمالیا ہے، زیادہ دن نہ گزریں گے کہ وہ خدا کی گرفت میں آئیں گے۔میں ان کا جو انجام دیکھتا ہوں ، خوش کن نہیں ہے۔میری بھی چونکہ وہاں زمین ہے، اس لئے میں نے اپنے ایک عزیز کو وہاں بھجوا دیا کہ شاید وہ شوق سے کام کرے مگر وہ بھی ناکام ثابت ہوا اور اس نے قطعاً اعلیٰ مخلصوں والی قربانی پیش نہیں کی۔311