تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 312

خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم غرض اس وقت تک جتنی کوفت اور تکلیف مجھے اس کام کی وجہ سے اٹھانی پڑی ہے، اتنی کوفت اور تکلیف مجھے اور کسی کام سے نہیں ہوئی۔دوسرے تمام کاموں میں مجھے اچھے آدمی مل گئے ہیں مگر یہاں شاید دنیا کی لالچ اور حرص آجاتی ہے، اس لئے صحیح طور پر کام کرنے والے ابھی تک نہیں ملے یا شاید وہ کام بھی نہیں کر سکتے تھے اور شاید میں بھی ابھی تک ایسے لوگوں کو نہیں چن سکا، جو اس کام کو پوری محنت اور دیانتداری سے کریں۔بہر حال ہمیں ایسے مخلص آدمیوں کی ضرورت ہے، جو زمینوں کا تجربہ رکھتے ہوں اور جو دیانتداری اور محنت کے ساتھ سلسلہ کا یہ کام کرنے کے لئے تیار ہوں تا کہ ہمارا مالی پہلو مضبوط ہو اور ہم جلد سے جلد تبلیغ کی اس سیکم کو جاری کر سکیں ، جو میرے مد نظر ہے۔میں علاوہ سندھ کی زمینوں کے سلسلہ کے اموال بڑھانے کے لئے بعض اور ذرائع سے بھی کام لے رہا ہوں اور اس کام کو شروع بھی کر دیا گیا ہے مگر میں ابھی اس کا اظہار نہیں کرتا۔مجھے یقین ہے کہ اس کے نتیجہ میں ہندوستان میں ہماری جماعت کو ایسی فضیلت حاصل ہو جائے گی کہ دنیا کے لوگ تسلیم کریں گے کہ یہ جماعت دینی طور پر ہی قابل نہیں بلکہ دنیوی طور پر بھی خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایسی عزت بخشی ہے، جو دوسری قوموں اور جماعتوں کو حاصل نہیں۔اگر یہ سکیم کامیاب ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیں لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ بڑی آسانی سے میسر آسکتا ہے۔میں چار پانچ سال سے اس کے متعلق کوشش کر رہا تھا، لمبا کام تھا اور تعلیم سے تعلق رکھتا تھا اور تھوڑے عرصہ میں نہیں بلکہ چھ سات سال میں یہ کام ہو سکتا تھا۔اب یہ عرصہ چونکہ ختم ہونے کے قریب ہے، اس لئے اس کام کی داغ بیل رکھ دی گئی ہے اور امید ہے کہ سال ڈیڑھ سال تک کام ایک معین صورت اختیار کر لے گا۔غرض یہ نئی سکیم اور ہماری سندھ کی زمینیں ایسی چیزیں ہیں، جن سے سلسلہ کا مالی پہلو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت مضبوط ہو سکتا ہے اور جماعت کی موجودہ حالت کے لحاظ سے تبلیغ کے لئے دس بارہ لاکھ روپیہ سالانہ کا بوجھ آسانی سے برداشت کیا جاسکتا ہے۔سندھ کی زمینوں کے متعلق مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک رویا بھی دکھایا تھا اور اسی رویاء کی بناء پر میں نے صدر انجمن احمدیہ کو وہاں کی زمینیں خریدنے کی ہدایت کی۔بہت عرصہ کی بات ہے، میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک نہر پر کھڑا ہوں، اس کا پانی نہایت ٹھنڈا اور اس کے چاروں طرف سبزہ ہے کہ اسی حالت میں ایک دم شور کی آواز آئی۔میں نے اوپر کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ نہر ٹوٹ کر اس کا پانی تمام علاقہ میں پھیل گیا ہے اور سرعت سے بڑھتا جارہا ہے۔میں نے چاہا کہ واپس لوٹوں تا کہ پانی میرے قریب نہ پہنچ جائے۔مگر ابھی میں یہ خیال ہی کر رہا تھا کہ میں نے دیکھا ، میرے چاروں طرف پانی آگیا 312