تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 310
خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد دوم دین تو ایک مجموعہ نظام کا نام ہے، جس میں زمینیں بھی شامل ہیں، جس میں جائیداد میں بھی شامل کی ہیں ، جس میں مکانات بھی شامل ہیں، جس میں تجارتیں بھی شامل ہیں، جس میں کارخانے بھی شامل ہیں صرف تبلیغ کرنا دین نہیں۔اگر صرف تبلیغ کرنا دین ہو تو سوال یہ ہے کہ پھر دکانیں کون چلائے گا ؟ کارخانے کون جاری کرے گا؟ زمینوں کی کون نگرانی کرے گا؟ صنعت و حرفت کی طرف کون توجہ کرے گا ؟ علوم کون پھیلائے گا؟ پس یہ میچ نہیں کہ صرف تبلیغ کرنا دین ہے۔دین اسلامی نظام کے ہر شعبہ کا نام ہے اور اس نظام کا ہر شعبہ ویسا ہی اہم ہے جیسے تبلیغ کرنا۔مثلاً جب بعض لوگ تبلیغ کے لئے جاتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان کے پیچھے ایسے لوگ ہوں ، جو لٹریچر تیار کر کے ان کو بھیجیں۔کہیں قرآن کی تفسیر ہو رہی ہو، کہیں حدیثوں کے ترجمے شائع ہو رہے ہوں، کہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے تراجم ہورہے ہوں، کہیں اور لٹریچر تیار ہورہا ہو۔اگر ان کے پاس کثرت سے لڑ پچر نہیں ہوگا، اگر ان کے پاس کتا بیں نہیں ہوں گی ، اگر ان کے پاس روپیہ نہیں ہوگا تو وہ تبلیغ کو وسیع کرنے کا کام کس طرح کر سکیں گے ؟ پس سلسلہ کا ہر کام تبلیغ سے وابستہ ہے۔جو شخص زمین میں ہل چلاتا ہے، وہ بھی تبلیغ کرتا ہے۔جو شخص کارخانہ چلاتا ہے، وہ بھی تبلیغ کرتا ہے۔جو شخص زمینوں کی نگرانی کرتا ہے، وہ بھی تبلیغ کرتا ہے۔جو شخص لٹریچر شائع کرتا ہے، وہ بھی تبلیغ کرتا ہے۔جو شخص سلسلہ کا کوئی اور کام کرتا ہے، وہ بھی تبلیغ کرتا ہے۔آخر یہ تمام کام ہوں گے تبھی روپیہ آئے گا اور بھی اس کے ذریعہ مبلغوں کو پھیلایا جا سکے گا۔ہم پر خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور تحریک جدید کے چندہ کے ذریعہ کئی سو مربع زمین ہمیں مل گئی۔پنجاب میں ایک مربع چھپیں تمہیں ہزار روپیہ کو ملتا ہے۔گورنمنٹ کی نیلام میں بھی ہیں سے پچیس ہزار تک مربع ملتا ہے اور اگر پبلک میں سے کوئی فروخت کرے تو تمیں سے چالیس ہزار روپیہ تک ایک مربع فروخت ہوتا ہے۔مگر ہم نے سندھ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے قریباً چار سومربع زمین تحریک جدید کی لے لی ہے۔اگر پنجاب میں اتنی ہی زمین خریدی جاتی تو ایک کروڑ بیس لاکھ روپیہ خرچ ہوتا مگر ہم کو وہاں اوسطاً مختلف اخراجات شامل کر کے ایک مربع پانچ ہزار روپیہ میں ملا ہے اور وہاں ہماری ساری جائیداد میں لاکھ روپیہ کی ہے۔گویا میں لاکھ روپیہ میں ہمیں وہ چیز مل گئی، جو پنجاب میں ایک کروڑ بیس لاکھ روپیہ میں مل سکتی تھی۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ سلسلہ کے لئے ہمیں اس قدر زمین مل گئی۔اگر جماعت کے دوست اس کام کو دین کا کام سمجھ کر محنت اور دیانتداری سے سرانجام دیتے اور تمام زمین کو اس طرح کھود کر رکھ دیتے کہ وہ اپنے خزانے اگلنے لگ جاتی تو پھر چاہے ایک سال کے بعد ہی وہ مرجاتے ، انہیں سمجھنا 310