تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 301
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد دوم - خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء اور ان کی روحانی غربت و افلاس کو دور کرنے اور انہیں ایمان کی دولت سے مالا مال کرنے کا کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کر رہے تھے ، آپ کا کرتہ یا پاجامہ یہ کام نہیں کر رہا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے۔گویا جس نے یہ کام کیا، اس کے جسم کے ساتھ لگا ہوا کرتہ، اس کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹا ہوا یا جامہ، اس کے سر پر رکھا ہوا عمامہ، اس کی جیب میں پڑا ہوا ر و مال اور اس کے پاؤں میں پڑی ہوئی جوتی بھی برکت والی ہوگئی۔کیونکہ جس شخص سے خدا نے کام لیا، یہ چیزیں اس کے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم اس کام کے مستحق نہیں، ہم اس کام کے اہل نہیں، ہم میں وہ خوبیاں نہیں، جو اعلیٰ جماعتوں میں پائی جانی چاہئیں مگر چونکہ خدا نے ہمیں ایک درجہ دے دیا ہے، اس لئے اس کام کے ہونے کی وجہ سے ہمیں وہ برکات ملنی ضروری ہیں، جو برکات ایسے کاموں سے وابستہ ہوتی ہیں۔لیکن بہر حال ہمارے لئے ان برکات کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔دیکھو ! وہی کرتہ برکت پا گیا، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم سے جاملا، اسی پاجامہ نے برکت حاصل کی ، جو آپ کی ٹانگوں میں لپٹا رہا، اسی پگڑی نے برکت حاصل کی ، جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہنا، وہی کلا عزت کا مستحق ہوا، جو آپ کے سر پر رہا، اسی ٹوپی نے عزت حاصل کی ، جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے سر پر رکھا ، وہی رومال برکت حاصل کر گیا ، جو آپ کی جیب میں پڑا رہا اور وہی جوتی برکت والی قرار پائی، جو آپ کے پاؤں میں رہی۔پس برکت حاصل کرنے کے لئے کم سے کم اتنا لگاؤ کا ہونا تو ہمارے لئے ضروری ہے ، جس طرح کر تہ آپ کے جسم سے چھٹا رہا، جس طرح پاجامہ آپ کی ٹانگوں سے لپٹا رہا، جس طرح رومال آپ کی جیب میں پڑا رہا، جس طرح عمامہ آپ کے سر پر دھرارہا، جس طرح جوتی آپ کے پاؤں میں پڑی رہی۔اسی طرح ہمارا فرض ہے کہ اگر ہم الہی برکات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم دھونی رما کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرد بیٹھ جائیں۔اگر ہم اپنے آپ میں کرتے جیسی وابستگی پیدا کر لیں ، اگر ہم اپنے آپ میں پاجامے جیسی وابستگی پیدا کر لیں ، اگر ہم اپنے آپ میں ٹوپی جیسی وابستگی پیدا کر لیں ، اگر ہم اپنے آپ میں کل جیسی وابستگی پیدا کر لیں ، اگر ہم اپنے آپ میں عمامہ جیسی وابستگی پیدا کر لیں ، اگر ہم اپنے آپ میں رومال جیسی وابستگی پیدا کر لیں ، اگر ہم اپنے آپ میں جوتی جیسی وابستگی پیدا کر لیں تبھی ہم برکتوں کے مستحق ہو سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔بے شک ایک کر نہ میں ذاتی طور پر کوئی برکت نہیں ہو سکتی مگر چونکہ وہ کرتہ آپ کے جسم سے لپٹا رہا، اس لئے برکت 301