تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 302
خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم حاصل کر گیا۔اسی طرح خواہ ہماری جماعت میں کس قدر کمزوریاں پائی جاتی ہوں ، جو لوگ مجازی طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ لیٹے رہیں گے، وہ برکت حاصل کر لیں گے اور جولوگ آپ کے ساتھ نہیں لپیٹیں گے، وہ برکت حاصل نہیں کر سکیں گے۔اوّل تو ہر شخص کو اپنے اندر ایسی خوبی پیدا کرنی چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی برکات اور اس کے انوار کو حاصل کر سکے اور خود اس کا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی رحمت کا ایک نشان بن جائے لیکن جو شخص یہ خوبی اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا، اسے کم سے کم کرتہ اور پاجامہ اور رومال اور عمامہ کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ لپٹا تو رہنا چاہئے ورنہ وہ ان برکات کو کس طرح حاصل کر سکتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہیں؟ میں نے بتایا ہے کہ ہمارے سپر د جو کام کیا گیا ہے، وہ نہایت ہی اہم ہے۔اور ایسے زمانہ میں یہ کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے، جب دہریت اور عیش پرستی انتہا کو پہنچ چکی ہے، سائنس کے ذریعہ اسلام پر نئے نئے حملے کئے جارہے ہیں اور ایمان کے خلاف دنیا میں ایک شدید زہریلی ہوا جاری ہے۔دوسری طرف ظلم یہ ہورہا ہے کہ آدھی دنیا دوسری آدھی دنیا پر حکومت کر رہی ہے اور لوگ مجبور ہیں کہ غلامی کی زندگی بسر کریں۔پہلے زمانوں میں دس ہیں یا پچاس غلاموں پر حکومت کی جاتی تھی مگر آج وہ زمانہ ہے، جب آدھی سے زیادہ دنیا غلام ہے۔یورپ اور امریکہ اور دوسری فاتح قو میں ، جن کے ماتحت اور ممالک ہیں، چالیس پچاس کروڑ سے زیادہ نہیں ہیں بلکہ اس سے کچھ کم ہی ہیں۔لیکن باقی دنیا کی آبادی ڈیڑھ ارب لوگوں پر مشتمل ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر بچہ ، ہر عورت اور ہر بوڑھا تین تین آدمیوں کو غلام بنائے بیٹھا ہے۔تمام ایشیا، تمام افریقہ الا ماشاء اللہ، تمام جزائر الا ما شاء اللہ سارے کے سارے غلامی اور ماتحتی میں اپنی زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔ان سارے حالات کو بدلنا اور محبت سے، پیار سے، نیکی۔رافت سے اور شفقت سے لوگوں کی اصلاح کرنا ہمارا کام ہے۔کیا یہ کوئی معمولی کام ہے، جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے؟ دنیا میں کون سی قوم ہے، جس نے ایسا کام کیا ہو؟ کوئی قوم ایسی نہیں، جس کے سپر د اتنا بڑا کام کیا گیا ہو، جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔پس جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے، وہ دنیا کی سب قوموں کے کاموں سے بڑا ہے اور جو طاقت ہمارے اندر ہے، وہ دنیا کی سب قوموں سے کم ہے۔پس یہ کام سوائے اس کے کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی نشان ظاہر ہو اور وہ ہمارے کمزور ہاتھوں سے یہ عظیم الشان عمارت کھڑی کر دے؟ پس ہماری ذمہ داریاں بہت وسیع ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو کام ہمارے سپرد کیا ہے، وہ ایسی اہمیت رکھتا ہے اور اتنا بڑا ہے کہ اگر ہم اپنے اندر کمزوری محسوس کرتے ہیں تو ساتھ ہی ہمارا سے، 302