تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 257
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبه جمعه فرموده یکم اکتوبر 1943ء کام کے لئے موزوں سمجھے جاتے ہیں، ان کو لے لیا جاتا ہے اور باقی کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔لیکن جو شخص ایک دفعہ اپنی زندگی وقف کرتا ہے، وہ خدا کے ہاں ہمیشہ ہی واقف سمجھا جاتا ہے۔میرے اسے رد کرنے کے یہ معنی نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے ہاں بھی رد ہو گیا۔چاہے ہم اسے قبول نہ کریں ، وہ خدا تعالیٰ کے ہاں واقف ہے۔چاہے وہ باہر جا کر کوئی اور نوکری ہی کر رہا ہو، جب بھی وقف زندگی کیلئے جماعت سے مطالبہ کیا جائے۔اس کا فرض ہے کہ پھر اپنے آپ کو پیش کرے خواہ پھر رد کر دیا جائے اور رد کرنے کی صورت میں اگر وہ کوئی اور کام بھی کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت وہ دین کی خدمت میں صرف کرے۔در نہ وہ شدید وعدہ خلافی کا مرتکب سمجھا جائے گا۔جب ایک شخص خدا تعالیٰ کے ساتھ وعدہ کرتا ہے کہ وہ دین کیلئے اپنی زندگی وقف کرتا ہے اور پھر امام جماعت بلکہ نبی کے رد کر دینے پر بھی وہ سمجھتا ہے کہ مجھے چونکہ قبول نہیں کیا گیا، اس لئے میں آزاد ہوں۔تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وعدہ خلافی کا مرتکب سمجھا جائے گا۔بلکہ اپنے آپ کو پیش کر دینا تو درکنار شخص اپنے دل میں بھی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے لئے وقف ہوں تو پھر کسی وقت بھی اس کا اپنے آپ کو وقف کی ذمہ داریوں سے آزاد سمجھنا، شدید وعدہ خلافی ہے۔کسی کا اسے قبول کرنے سے انکار، اس کے وقف کو نہیں بدل سکتا۔اس کے رد کرنے کے معنی تو صرف یہ ہیں کہ وہ اس خاص جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا، جس سے اس وقت کوئی کام لیا جاتا ہے اور یہ عدم شمولیت اس کے وقف کو بدل نہیں سکتی۔بلکہ جس دن سے کوئی وقف کا ارادہ کرتا ہے، وہ چاہے اس ارادہ کا اظہار بھی کسی کے سامنے نہ کرے، وہ خدا تعالیٰ کے ہاں واقف ہے۔اور اس سے کسی صورت میں بھی اپنے آپ کو آزاد سمجھنا، وعدہ خلافی ہے۔کامل مومن وہ ہے، جو دل کے ارادہ پر بھی پختہ رہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص صدقہ کا ارادہ کرے، اس کے لئے صدقہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔جو شخص نفل پڑھنے کا ارادہ کرے، اس کے لئے پڑھنا ضروری ہو جاتا ہے۔پس کامل مومن کا ارادہ بھی اسے باندھ دیتا اور پابند کر دیتا ہے۔لیکن اگر کوئی ادنی مومن ہے تو جب وہ ایک بار اپنے آپ کو وقف کر چکا تو خواہ اسے قبول نہ بھی کیا جائے، وہ آزاد نہیں ہو سکتا۔دینی خدمت کے لئے قبول نہ کئے جانے کی صورت میں اگر وہ مثلاً ڈاکٹری کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ ڈاکٹری کے کام کو کم سے کم وقت میں محدود کرے اور باقی وقت دین کی خدمت میں لگائے۔اگر کوئی انجینئر ہے تو چاہئے کہ کم سے کم وقت انجینئر نگ کے کام پر صرف کرے اور زیادہ سے زیادہ دین کی خدمت پر۔اگر وہ کوئی ملازمت اختیار کرتا ہے تو چاہئے کہ ملازمت کیلئے جتنا وقت 257