تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 258

خطبه جمعه فرموده یکم اکتوبر 1943ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم دینا اس کے لئے لازمی ہے، اس کے سوا باقی وقت کا کثیر حصہ دینی خدمت میں گزارے اور پھر اس تاک میں رہے کہ کب دینی خدمت کیلئے آگے بڑھنے کا مطالبہ ہوتا ہے اور جب بھی ایسی آواز اس کے کان میں پڑے۔اسے چاہئے کہ پھر اپنے آپ کو پیش کرے اور کہے کہ میں واقف ہوں۔پہلے فلاں وقت مجھے نہیں لیا گیا تھا ، اب میں پھر پیش کرتا ہوں اور خواہ وہ ساری عمر بھی نہ لیا جائے۔مگر اس کا یہ فرض ہے کہ ہمیشہ اپنے آپ کو واقف ہی سمجھے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ وعدہ خلاف اور غدار سمجھا جائے گا۔پس جس نے کسی وقت بھی اپنے آپ کو وقف کیلئے پیش کیا ، وہ اس سے کبھی آزاد نہیں ہو سکتا۔میرا یا کسی اور کا اسے کسی وقت قبول نہ کرنا، اسے وقف کی ذمہ داریوں سے آزاد نہیں کر سکتا۔کیونکہ وقف تو ایک عہد ہے، خدا تعالیٰ اور بندے کے درمیان ، اور کوئی قبول کرے، نہ کرے، یہ عہد ہر گز نہیں ٹوٹ سکتا۔بلکہ اگر صرف دل میں ہی وقف کا ارادہ کیا جائے ، چاہے اظہار نہ ہو تو بھی نہیں ٹوٹ سکتا۔پس وقف کے قبول کئے جانے یا نہ کئے جانے کا کوئی سوال نہیں۔جو شخص وقف کرتا ہے، اس کا وقف ہمیشہ قائم رہتا ہے اور خدمت دین کی ایک صورت کے لئے قبول نہ کئے جانے کے یہ معنی نہیں کہ وہ دین کی کسی اور رنگ میں خدمت کرنے کی ذمہ داری سے بھی سبکدوش ہو گیا۔اگر ایک شخص کی آنکھیں خراب ہیں اور اسے فوج میں بھرتی نہیں کیا جاتا تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ ہمیشہ کیلئے ملک کی خدمت کا کے فرض سے آزاد ہو گیا۔کیونکہ اگر وہ با قاعدہ لڑنے والی فوج میں شامل نہیں کیا گیا تو کئی اور صورتوں میں وہ خدمت ملک کر سکتا ہے۔کلرک بن سکتا ہے، زخمیوں کے لئے پٹیاں بنانے کا کام کر سکتا ہے، ایسی تحریکیں کر سکتا ہے، جن سے فوجی بھرتی میں امداد مل سکے۔اور نہیں تو عوام میں بے چینی پیدا کر نے والی غلط افواہوں کی تردید کر کے ایک اہم خدمت سر انجام دے سکتا ہے۔غرض جو شخص کسی خاص وقف کی تحریک میں نہ لیا جانے کی صورت میں یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ اب وقف کی ذمہ داری سے وہ آزاد ہو گیا ہے، وہ ایسا ہی احمق ہے، جیساوہ والنٹیر احمق ہے، جو فوج میں بھرتی ہونے کے لئے گیا اور اسے فوج کے قابل نہ سمجھ کر آزاد کر دیا اور اس نے ملک کی خدمت کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو آزاد سمجھ لیا۔اگر وہ کامل مومن ہے تو صرف دل میں ارادہ کرنے سے اور اگر ادنی مومن ہے تو اپنے آپ کو پیش کر دینے کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کے ہاں وقف ہے۔خواہ اسے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔پس جو نوجوان اپنے آپ کو پیش کر چکے ہیں، وہ یاد رکھیں کہ وہ قیامت تک وقف ہیں۔اور جواب میری اس تحریک پر یا کبھی آئندہ اپنے آپ کو پیش کریں، وہ بھی اس بات کو یا درکھیں کہ وقف کی بڑی اہمیت ہے۔اس لئے جو اپنے آپ کو پیش کرے، اچھی طرح سوچ سمجھ کر کرے۔258