تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 256

خطبه جمعه فرموده یکم اکتوبر 1943ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد دوم پچھلے سالوں میں مالی قربانی کے لحاظ سے جماعت نے نہایت اعلی نمونہ پیش کیا ہے۔ایسا نمونہ کہ جس پر فخر کیا جاسکتا ہے اور پورے یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں اور کوئی قوم ایسی نہیں ، جو دلی جوش اور ارادہ کے ساتھ ایسی قربانی کرے۔بغیر کسی جبر یا قانون کے اور بغیر کسی ایسے محکمہ کے جولوگوں کی آمد نیوں کو حساب کر کے ان پر ٹیکس لگائے۔محض اپنے ارادہ سے اتنی قربانی کرنے والی اور کوئی قوم دنیا میں نہیں۔جنگ کے زمانہ میں چونکہ ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے، اس لئے لوگ زیادہ قربانی کرتے ہیں۔مگر جو قربانی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کرتی ہے، ویسی جنگ کے زمانہ میں بھی دوسری قومیں بہت کم کرتی ہیں۔ہماری جماعت کو کوئی ظاہری جنگ در پیش نہ تھی۔روحانی جنگ تھی اور وہ جاری ہے اور جاری رہے گی۔مگر ظاہری جنگ کے نہ ہونے کے باوجود جماعت کے بڑے حصہ نے قربانی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔اس سے زیادہ لوگ اس لئے شامل نہیں ہو سکے کہ تحریک جدید میں شامل ہونے کیلئے یہ شرط لگا دی گئی تھی کہ کم سے کم اتنی رقم دے کر اس میں شمولیت اختیار کی جاسکتی ہے۔اس لئے باقی لوگ مجبور اشریک نہ ہو سکے۔ان کا شامل نہ ہو سکنا، اس وجہ سے نہ تھا کہ ان کے دل میں شوق نہ تھا۔بلکہ یہ وجہ تھی کہ ان میں شامل ہو سکنے کی طاقت نہ تھی۔پس جن میں شامل ہونے کی طاقت تھی ، ان کا اندازہ کرتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسی نوے فیصدی دوستوں نے مالی قربانی کا قابل یادگار نمونہ پیش کیا ہے۔لیکن تبلیغ کے لئے وقف زندگی کا نمونہ ایسا شاندار نہیں، جو جماعت نے مالی قربانی کے لحاظ سے دکھایا ہے۔ابھی بہت سے نو جوانوں کی ضرورت ہے، جو اپنے اوقات کو کلی طور پر دین کی خدمت میں لگانے کے لئے تیار ہوں۔پھر میں نے ایک اور نقص دیکھا ہے کہ دوستوں میں کام کرنے میں سستی کی عادت ہے، جسے کسی کام پر مقرر کیا جائے ، وہ غفلت کرتا ہے۔یہ عادت اہم مہمات کے سر کرنے کیلئے سخت مضر ہے اور فتح کے وقت کو پیچھے ڈال دینے والی عادت ہے۔اس کی اصلاح بھی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ اپنی زندگیوں کو وقف کرنے والوں کی ایک ایسی جماعت ہو، جو ایک خاص پروگرام کے تحت تعلیم و تربیت حاصل کرے اور پھر وہی روح دوسروں میں پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اس لئے زیادہ سے زیادہ نو جوانوں کی ضرورت ہے، جو اپنی زندگیوں کو دین کیلئے وقف کریں۔اس سلسلہ میں میں جماعت کے دوستوں کو ایک اور امر کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔جس کی طرف پہلے توجہ نہیں اور پہلے میں نے اسے بیان بھی نہیں کیا۔ہر شخص جو اپنی زندگی وقف کرتا ہے، اس کے وقف کرنے کے یہ معنی نہیں کہ اس کا وقف ضرور قبول کر لیا جائے۔پیش کرنے والوں میں سے جو 256