تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 246
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اپریل 1943ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم چھوڑنا بھی انسان کے لئے زیادہ تکلیف کا موجب نہیں ہو سکتا۔پس اگر ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں تو و ہمارے لئے ان کا چھوڑ نا ذرہ بھی تکلیف کا موجب نہیں ہوسکتا۔لیکن اگر ہم ان کو چھوڑ دیں تو دنیا کے لئے جنت کی کیفیت پیدا کرنے میں محمد ہو سکتے ہیں۔آخر یہ غربتیں اور تکلیفیں اسی وجہ سے ہیں کہ کچھ لوگ زیادہ عیاشی میں مبتلاء ہوتے ہیں اور وہ کروڑوں من غلہ اور کروڑوں من انگور شرابوں کے بنانے میں صرف کر دیتے ہیں۔اگر وہ لوگ بھی پانی پر کفایت کرتے تو کروڑوں من غلہ اور انگور لوگوں کے پیٹوں میں جاتا۔اور اس طرح ان کو مقوی غذا بھی ملتی ، ان کے دل کو بھی طاقت حاصل ہوتی اور ان کے دماغ کو بھی تروتازگی حاصل ہوتی۔مگر انہوں نے ایک ایسی ضرورت پیدا کر لی ہے، جو حقیقی ضرورت نہیں اور اس کی وجہ سے وہ دنیا کے معتد بہ حصہ کو غلہ سے اور پھلوں سے محروم کر رہے ہیں۔ورنہ وہی غلہ اور وہی پھل کروڑوں لوگوں کی صحت اور ان کی راحت کا موجب ہوتا۔یہی حال باقی اشیاء کا ہے۔جتنا جتنا انسان زیادہ تکلفات اختیار کرتا ہے، اتنا اتنا خود اس کی زندگی قربانی سے محروم ہوتی جاتی ہے اور دوسرے انسانوں کو بلا وجہ اس کے لئے قربانی کرنی پڑتی ہے۔اس میں کیا شبہ ہے کہ جس کے پاس روپیہ زیادہ ہوتا ہے، وہ اپنے روپے کے زور سے دوسروں کا حق چھینے کی کوشش کیا کرتا ہے؟ مثلاً گندم اور چاول ہیں۔یہ عام ملنے والی چیزیں ہیں۔لیکن اگر کوئی شخص ایک سیر گندم کو چھٹانک نشاستہ کی شکل میں تبدیل کر دیتا اور وہ نشاستہ اپنے استعمال میں لاتا ہے یا کسی اور طرز پر اس کمیت کو کم کر دیتا ہے تو دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے پندرہ چھٹا نک غلہ سے دنیا کومحروم کر دیا۔اسی طرح وہ شخص جس نے ایک سیر جو کی شراب بنا کر ایک گلاس پی لیا ، اس نے ایک آدمی کو صبح اور شام کے کھانے سے محروم کر دیا۔پس تحریک جدید در حقیقت اسلام کے احیاء کا نام ہے۔جدید ، وہ صرف ان معنوں میں ہے کہ دنیا اس سے ناواقف ہو گئی تھی۔ورنہ در حقیقت وہ تحریک قدیم ہی ہے۔میں ایک دفعہ ایک دعوت میں شامل ہوا، جو ایک انگریز افسر کے اعزاز میں دی گئی تھی۔میں عموماً ایسی دعوتوں میں نہیں جایا کرتا۔مگر لوگوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس دعوت میں ضرور شریک ہوں۔میں نے کہا میں نہیں جاتا عموماً ایسی دعوتوں میں عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں اور انگریز عورتیں مصافحہ کرنے کی کوشش کیا کرتی ہیں اور میں چونکہ اسلامی تعلیم کے ماتحت عورتوں سے مصافحہ کرنا، ناجائز سمجھتا ہوں، اس لئے انہیں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔اور وہ اس بات میں اپنی پتک محسوس کرتی ہیں۔مگر لوگوں نے کہا کہ آپ ضرور چلیں، ہم آپ کو الگ بٹھا دیں گے۔خیر میں چلا گیا۔یہ دعوت ایک جرنیل کی تھی۔جب اس جرنیل کو معلوم ہوا کہ میں بھی وہاں آیا ہوا ہوں تو وہ 246