تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 247

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 30 اپریل 1943ء تحریک جدید- ایک الی تحریک۔۔۔جلد دوم بڑے شوق سے مجھے ملنے کے لئے آیا اور اپنے ساتھ اپنی بیوی بھی لے آیا۔آتے ہی اس کی عورت نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا اور میں نے اپنا ہاتھ پیچھے پیچ لیا۔اس سے طبعی طور پر اسے تکلیف ہوئی کیونکہ انگریز عورتیں اسے اپنی بڑی بہتک سمجھتی ہیں۔اس کے خاوند کو بھی تکلیف ہوئی اور اس نے مجھے کہا کہ میں تو آپ کی جماعت کے متعلق یہ سمجھتا تھا کہ یہ ایک نئی تحریک ہے، اسی لئے میں اپنی بیوی کو بھی اپنے ساتھ لایا تھا۔میں نے کہا کہ یہ آپ کی غلطی ہے یا ہماری غلطی ہے کہ ہم آپ کو صحیح طور پر سمجھا نہیں سکے۔ہماری تحریک تو در حقیقت پرانی ہے اور ہم تعلیم کے لحاظ سے تیرہ سو سال پیچھے جاتے ہیں۔تو تحریک جدید اس کا نام صرف اس لئے ہے کہ دنیا اس سے نا واقف ہو چکی تھی اور یہ ہماری بد قسمتی تھی کہ ہمیں ایک پرانی چیز کونئی کہنا پڑا۔کیونکہ لوگ اس سے ناواقف ہو چکے تھے۔اور وہ جدید نہیں بلکہ قدیم ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جس طرز پر زندگی بسر کی، ہم تحریک جدید کے ذریعہ اس کے قریب قریب لوگوں کو لانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج کل دنیا کے حالات ایسے رنگ میں بدل چکے ہیں کہ ہم اپنی طرز زندگی کی بالکل وہی شکل نہیں بنا سکتے ، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے طرز زندگی کی شکل تھی۔مگر اس کے قریب قریب جس حد تک زمانہ کے حالات ہم کو اجازت دیتے ہیں، ہم لوگوں کو لیجانے کی کوشش کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور یہی تحریک جدید کی غرض ہے۔پس ان ایام میں جبکہ خدا تعالیٰ نے جبر آساری دنیا میں تحریک جدید کو جاری کر دیا ہے۔میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ حالات جو رونما ہورہے ہیں۔ان کو دیکھو، غور کرو اور سمجھو کہ اسلام کی تعلیم کس قدر رحمت کا موجب ہے؟ اگر ہمیشہ ہم اپنی زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے احکام کے مطابق سادہ رکھیں تو اس قسم کے حوادث ہمیں ذرہ بھی تکلیف نہ پہنچا سکیں۔آج یورپ اور امریکہ کے لوگ چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ ہم مر گئے۔مگر وہ جو اپنے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مر گئے ، ہم پہلے بھی ان سے کم کھا رہے تھے۔مگر باوجود اس کے ہمیں کوئی تکلیف نہ تھی اور آج بھی ان سے کم کھا رہے ہیں اور ہمیں کوئی تکلیف نہیں۔پس اگر ایسے واقعات ہم پر آجائیں تو ہمارے لئے کیا تکلیف کا موجب ہو سکتے ہیں؟ حضرت مسیح موعودؓ فرمایا کرتے تھے کہ کوئی اندھا تھا، جو رات کے وقت کسی دوسرے سے باتیں کر رہا تھا۔ایک اور شخص کی نیند خراب ہو رہی تھی۔وہ کہنے لگا حافظ جی سو جاؤ۔حافظ صاحب کہنے لگے ، ہمارا سونا کیا ہے؟ چپ ہی ہو جانا ہے۔مطلب یہ کہ سونا آنکھیں بند کرنے اور خاموش ہو جانے کا نام ہوتا ہے۔میری آنکھیں تو پہلے 247