تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 245

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اپریل 1943ء کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کومتیں اور پھر آپ کے بعد آپ کے ظل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملتیں۔میں چھوٹا ہی تھا کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں مجھے شکار کا شوق پیدا ہو گیا۔ایک ہوائی بندوق میرے پاس تھی، جس سے میں شکار مار کر گھر لایا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام چونکہ کھانا کم کھایا کرتے تھے اور آپ کو دماغی کام زیادہ کرنا پڑتا تھا اور میں نے خود آپ سے یا کسی اور طبیب سے سنا ہوا تھا کہ شکار کا گوشت دماغی کام کرنے والوں کے لئے مفید ہوتا ہے۔اس لئے میں ہمیشہ شکار آپ کی خدمت میں پیش کر دیا کرتا تھا۔مجھے یاد ہی نہیں کہ اس زمانہ میں، میں نے خود کبھی شکار کا گوشت اپنے لئے پکوایا ہو۔ہمیشہ میں شکار مار کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دے دیا کرتا تھا۔تو جب انسان کو اپنے محبوب سے محبت کامل ہوتی ہے تو پھر یا تو وہ کسی چیز کو راحت ہی نہیں سمجھتا اور یا اگر راحت سمجھتا ہے تو کہتا ہے، یہ اس کے محبوب کا حق ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قرآنی علوم کے بڑے بڑے معارف اپنے فضل سے کھولے ہیں۔مگر بیسیوں مواقع مجھ پر ایسے آئے ہیں جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نکتہ مجھ پر کھولا گیا تو میرے دل میں اس وقت بڑی تمنا اور آرزو پیدا ہوئی کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام يا حضرت خليفة المسيح اول کے زمانہ میں یہ نکتہ مجھ پر کھلتا تو میں ان کے سامنے پیش کرتا اور مجھے ان کی خوشنودی حاصل ہوتی۔اصل مقام تو حضرت مسیح موعود کا ہی ہے۔حضرت خلیفہ اول کا خیال مجھے اس لئے آیا کرتا ہے کہ انہوں نے مجھے قرآن شریف پڑھایا اور انہیں مجھ سے بے حد محبت تھی اور ان کی یہ خواہش ہوا کرتی تھی کہ میں قرآن پر غور کروں اور اس کے مطالب نکالوں۔تو یہ چیزیں جو ہمارے لئے حقیقی راحت کا موجب نہیں ہو سکتیں بلکہ اگر ہمارے عشق وابستہ ہیں، بعض ایسی ہستیوں سے جواب دنیا میں موجود نہیں ہیں۔تو یہ نعمتیں بجائے راحت کے ہمارے لئے تکلیف کا موجب ہو جاتی ہیں۔جب بھی جلسہ ہوتا ہے اور لوگ دور دور سے جمع ہوتے ہیں، میرے قلب پر اس وقت رقت طاری ہو جاتی ہے۔اس خیال سے کہ سلسلہ کی یہ عظمت اور یہ شان اور اس کی یہ ترقی ہم لوگ جن کا اس ترقی میں کوئی بھی ہاتھ نہیں، وہ تو دیکھ رہے ہیں۔مگر وہ شخص جس کے ذریعہ سے سب کام ہوا اور جس نے اس کی خاطر سب دنیا سے تکلیفیں سہیں ، وہ انہیں نہیں دیکھ رہا۔تو سچی بات یہ ہے کہ محبت اور عشق کے ہوتے ہوئے یہ چیزیں کہیں تعیش کا سامان ہیں، کہیں دینوی سامانوں کی بہتات ہے۔انسان کے لئے راحت کا موجب نہیں ہوسکتیں اور اس وجہ سے ان کا 245