تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 244
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود و 30 اپریل 1943ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم میں نے کئی دفعہ اس زمانہ کے عاشق کا قصہ بھی سنایا ہے۔منشی اروڑے صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عشاق میں سے تھے۔ان کی عادت تھی کہ وہ کوشش کرتے کہ ہر جمعہ یا اتوار کو قادیان پہنچ جایا کریں۔چنانچہ انہیں جب بھی چھٹی ملتی ، یہاں آجاتے اور کوشش کرتے ، اپنے سفر کا ایک حصہ پیدل طے کریں تا کہ کچھ رقم بچ جائے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کر سکیں۔ان کی تنخواہ اس وقت بہت تھوڑی تھی غالباً پندرہ بیس روپے تھی اور اس میں نہ صرف وہ گزارہ کرتے بلکہ سفر کا خرچ بھی نکالتے اور حضرت مسیح موعود کی خدمت میں بھی نذرانہ پیش کرتے۔میں نے ان کا ہمیشہ ایک ہی کوٹ دیکھا ہے۔دوسرا کوٹ پہنتے ہوئے میں نے ان کو ساری عمر نہیں دیکھا۔انہوں نے تہہ بند باندھا ہوا ہوتا تھا اور معمولی سا کرتا ہوتا تھا۔ان کی بڑی خواہش یہ ہوتی تھی کہ وہ آہستہ آہستہ کچھ رقم جمع کرتے رہیں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں نذرانہ عقیدت کے طور پر پیش کر دیں۔رفتہ رفتہ وہ اپنی دیانت سے ترقی کرتے گئے اور تحصیلدار ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے کچھ مہینوں یا ایک سال کے بعد وہ قادیان میں آئے اور مجھے اندر کسی نے آکر کہا کہ منشی اروڑے صاحب دروازے پر آپ کو ملنے کے لئے آئے ہیں۔میں باہر آیا۔انہوں نے جلدی سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور جیب میں سے ( مجھے اچھی طرح یاد نہیں) تین یا چار پونڈ سونے کے نکالے اور نکال کر میرے سامنے کئے۔جو نہی انہوں نے پونڈ دینے کے لئے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔ان پر اتنی رقت طاری ہوئی کہ وہ چیخیں مار کر رونے لگ گئے اور انہوں نے اس طرح تڑپنا شروع کر دیا، جس طرح ذبح کیا ہوا بکر اتر پتا ہے۔میری عمر اس وقت چھوٹی تھی۔انیس سال عمر تھی۔میں انہیں اس حالت میں دیکھ کر گھبرا گیا کہ نہ معلوم انہیں کیا ہو گیا ہے؟ مگر میں چپکا کھڑا رہا اور وہ روتے رہے، روتے رہے اور روتے رہے۔کئی منٹ کے رونے کے بعد جب وہ اپنے نفس پر قابو کر سکے یعنی اتنا قابو کہ ان کے گلے میں سے آواز نکل سکے تو نہایت ہی کرب اور اندوہ سے انہوں نے مجھے کہا کہ میری بدقسمتی دیکھو کہ ساری عمر مرے دل میں یہ خواہش رہی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے سونا تحفہ کے طور پر پیش کروں مگر اس کی توفیق نہ ملی۔مگر اب جو میں سونا پیش کرنے کے قابل ہوا تو وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔یہ کہہ کر ان پر پھر وہی حالت طاری ہو گئی اور ذبح کئے ہوئے بکرے کی طرح تڑپنے لگے اور میں جو اب ان کے جذبات سے واقف ہو چکا تھا، اپنے جذبات کو بصد مشکل دبا کر ان کے سامنے کھڑا رہا۔تو اگر واقعہ میں دنیا کی یہ عمتیں، کوئی نعمتیں ہیں اور اگر واقعہ میں ان سے ہمیں کوئی حقیقی آرام پہنچ سکتا ہے تو ایک مومن کا دل ان کو استعمال کرتے وقت ضرور دیکھتا ہے۔اگر یہ نعمتیں ہیں تو پھر اس قابل تھیں 244