تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 202
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کہ انہوں نے تحریک جدید میں حصہ لے لیا ہے اور وہ لوگ جو آج دس دس روپے دے رہے ہیں ، چھ چھ وپے دے کر سمجھ لیتے کہ وہ تحریک جدید میں شامل ہو گئے ہیں اور ایک ایک ہزار دینے والے سوسو دے کر سمجھ لیتے کہ وہ اس ثواب میں شریک ہو گئے ہیں۔چنانچہ اس کا ثبوت اسی سے ملتا ہے کہ ابھی چند دن ہوئے میں نے تبلیغ خاص“ کے نام سے ایک تحریک کی ہے اور میں نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک پیسہ بھی دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔اس تحریک کے متعلق میرے پاس شکایت آئی ہے کہ اس میں لوگوں کی طرف سے چندہ کم آرہا ہے۔اگر کوئی رقم معین کردی جاتی تو اس قدر کم چندہ نہ آتا۔حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ اس تحریک سے میری غرض اور ہے اور تحریک جدید سے میری غرض اور ہے۔یہاں میری غرض صرف اتنی تھی کہ ہر شخص اپنے اپنے اخلاص کے مطابق اس تحریک میں حصہ لے۔چنانچہ اس عام اجازت سے مجھے ایک اندازہ ہو گیا، میں نے دیکھا ہے کہ اس چندہ میں تعداد کے لحاظ سے یوپی، بہار اور حیدر آباد نے بہت زیادہ حصہ لیا ہے۔مگر پنجاب نے بہت کم حصہ لیا ہے۔بعض بڑے بڑے شہروں نے تو بالکل حصہ لیا ہی نہیں مثلاً لاہور ہے، اس کے گیارہ حلقوں میں سے صرف دو حلقوں نے اس میں حصہ لیا ہے۔امرتسر میں سے غالباً کسی نے بھی حصہ نہیں لیا۔اسی طرح پنجاب کے اور بعض شہر ایسے ہیں جن کی طرف سے کوئی وعدہ نہیں آیا۔اس کے مقابلہ میں یوپی میں وہ آدمی جو صرف چار یا پانچ روپیہ چندہ دیا کرتے تھے، ان میں سے کسی نے سور و پیہ چندہ دیا ہے، کسی نے ڈیڑھ سوروپیہ چندہ دیا ہے اور کسی نے اڑھائی سوروپیہ چندہ دیا ہے۔اس سے مجھے یہ اندازہ لگانے کا موقع مل گیا ہے کہ وہ لوگ کس قسم کی تکلیفوں میں مبتلا ہیں اور ان علاقوں کے لوگوں کے اندر کس قدر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ جماعت ترقی کرے۔پس اس تحریک کے ذریعہ ان علاقوں کے لوگوں کی تکالیف کا مجھے احساس ہو گیا۔پنجاب میں چونکہ ہماری جماعت کثرت سے ہے، اس لئے تبلیغ کا جوش لوگوں میں کم ہے۔جماعتیں بالعموم بڑی بڑی ہیں اور پھر قریب قریب ہیں۔اس لئے انہیں کوئی دکھ نہیں دیتا اور وہ اپنے آپ کو امن میں خیال کر کے تبلیغ سے غافل ہو گئے ہیں۔پس اس تحریک کا یہ فائدہ ہوا کہ مجھے بعض علاقوں کے لوگوں کی تکالیف کا احساس ہو گیا۔اگر میں اس تحریک میں مثلاً سوروپیہ کی رقم معین کر دیتا اور کہتا کہ اس سے کم رقم دینے کی کسی کو اجازت نہیں تو مجھے کس طرح پتہ لگتا کہ کون کون سے علاقوں میں لوگوں کو زیادہ تکلیف ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی جماعتوں میں ترقی ہو؟ اب اس طریق سے ایک طرف تو مجھے یہ معلوم ہو گیا کہ پنجاب میں تبلیغ کا جوش کم ہے۔سوائے چند جماعتوں کے اور دوسری طرف یہ بھی معلوم ہو گیا کہ یوپی، بہار اور حیدر آباد کی احمدی جماعتیں تکلیف میں ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہے کہ جماعت ترقی کرے۔202