تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 201
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 27 نومبر 1942ء پھر یہ نہیں ہوا کہ وہ واپس آ گیا ہو۔بلکہ ہم تاریخوں میں یہی پڑھتے ہیں کہ فلاں مبلغ کو فلاں جگہ پھانسی دے دی گئی اور فلاں مبلغ کو فلاں جگہ قید کر دیا گیا۔ہمارے دوست اس بات پر خوش ہوا کرتے ہیں کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے سلسلہ کے لئے اپنی جان کو قربان کر دیا۔حالانکہ ایک عبد اللطیف نہیں ، جماعت کو زندہ کرنے کے لئے سینکڑوں عبد اللطیف درکار ہیں۔جو مختلف ملکوں میں جائیں اور اپنی اپنی جانیں اسلام اور احمدیت کے لئے قربان کر دیں۔جب تک ہر ملک اور ہر علاقہ میں عبد اللطیف پیدا نہیں ہو جاتے اس وقت تک احمدیت کا رعب قائم نہیں ہوسکتا۔احمد بیت کا رعب اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب سب لوگوں کو گھروں سے نکال کر ایک میدان میں قربانی کی آگ کے قریب کھڑا کر دیا جائے تاجب پہلی قربانی دینے والے قربانی دیں تو ان کو دیکھ کر خود بخود آگ میں کودنا شروع کر دیں اور اسی ماحول کو پیدا کرنے کے لئے میں نے تحریک جدید جاری کی ہے۔میں نے کہا ہے کہ میں نے تحریک جدید جاری کی مگر یہ درست نہیں۔میرے ذہن میں یہ تحریک بالکل نہیں تھی۔اچانک میرے دل پر اللہ تعالی کی طرف سے یہ تحر یک نازل ہوئی۔پس بغیر اس کے کہ میں کسی قسم کی غلط بیانی کا ارتکاب کروں میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ تحریک جدید جو خدا نے جاری کی۔میرے ذہن میں یہ تحریک پہلے نہیں تھی، میں بالکل خالی الذہن تھا۔اچانک اللہ تعالیٰ نے یہ سکیم میرے دل پر نازل کی اور میں نے اسے جماعت کے سامنے پیش کر دیا۔پس یہ میری تحریک نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی نازل کردہ تحریک ہے۔اس تحریک کی غرض میں نے بتا دی ہے اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس کے لئے مسلسل قربانی اور ایثار کی ضرورت ہے۔اسی طرح اس تحریک کے لئے قربانی کرنے والوں کا وجود ضروری ہے، قربانی کے لئے مناسب ماحول ضروری ہے اور کاموں کی سرانجام دہی کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔اسی طرح چوتھی چیز دعا ہے۔یہ بھی اس تحریک کی تکمیل کے لئے ضروری ہے۔چنانچہ جماعت کے کچھ حصہ کے ذمہ روپیہ جمع کرنا لگا دیا گیا ہے اور کچھ حصہ کے لئے دعائیں کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ اس تحریک میں کم سے کم پانچ روپیہ دینے کی شرط رکھ کر باقی جماعت کو الگ کر دیا گیا ہے۔وہ یہ نہیں جانتے کہ اس میں ایک عظیم الشان فائدہ مخفی تھا۔اگر پانچ ، دس، سویا ہزار کی رقم مقرر نہ کی جاتی تو مالدار کبھی اتنی قربانی نہ کرتے، جتنی آج کر رہے ہیں۔جو لوگ آج تحریک جدید میں پانچ روپیہ چندہ دے رہے ہیں وہ ایک ایک اور دو دوروپے دے کر دل میں اس بات پر خوش ہو جاتے 201