تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 194
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 1942ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کرنے لگیں اور یا پھر مخالفت شروع کر دیں۔مثلاً ایک چٹھی بھیج دی، پھر کچھ دنوں کے بعد اور بیجی، پھر کچھ انتظار کے بعد اور بھیج دی۔جس طرح کوئی شخص کسی حاکم کے پاس فریاد کرنے کے لئے اسے چٹھی لکھتا ہے مگر جواب نہیں آتا تو اور لکھتا ہے، پھر وہ توجہ نہیں کرتا تو ایک اور لکھتا ہے۔حتی کہ وہ افسر توجہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔پس تکرار کے ساتھ علماء، امراء، رؤسا، مشائخ نیز راجوں، مہاراجوں، نوابوں اور بیرونی ممالک کے بادشاہوں کو بھی چٹھیاں لکھی جائیں۔اگر کوئی شکر یہ ادا کرے تو اس پر خوش نہ ہو جائیں اور پھر لکھیں کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی طرف توجہ کریں۔جواب نہ آئے تو پھر چند روز کے بعد اور لکھیں کہ اس طرح آپ کو خط بھیجا گیا تھا مگر آپ کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔پھر کچھ دنوں تک انتظار کے بعد اور لکھیں۔حتی کہ یا تو بالکل وہ ایسا ڈھیٹ ہو کہ اس کے دل پر مہر لگی ہوئی ہے اور اس کی طرف سے اس کے سیکرٹری کا جواب آئے کہ تم لوگوں کو کچھ تہذیب نہیں، بار بار دق کرتے ہو۔راجہ صاحب نے یا پیر صاحب نے خط پڑھ لیا اور وہ جواب دینا نہیں چاہتے اور یا پھر اس کی طرف سے یہ جواب آئے کہ آؤ جو سنانا چاہتے ہو، سنا لو۔اس رنگ میں تبلیغ کے نتیجہ میں کچھ لوگ غور کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔مگر اس وقت تو یہ حالت ہے کہ غور کرتے ہی نہیں۔27 پس اب اس رنگ میں کام شروع کرنا چاہئے۔اس کے لئے ضرورت ہے ایسے مخلص کارکنوں کی جو اپنا وقت اس کام کے لیے دے سکیں۔بہت سی چٹھیاں لکھنی ہوں گی۔چٹھیاں چھپی ہوئی بھی ہوسکتی ہیں۔مگر پھر بھی ان کو بھیجنے کا کام ہوگا۔اگر جواب آئے تو ان کا پڑھنا اور پھر ان کے جواب میں بعض چٹھیاں دستی بھی لکھنی پڑیں گی۔بعض چٹھیوں کے مختلف زبانوں میں تراجم کرنے ہوں گے اور یہ کافی کام ہوگا۔اس کے لئے جن دوستوں کو اللہ تعالیٰ توفیق دے، وہ اس کام میں مدد دیں۔پھر جو دوست ” الفضل“ کا خطبہ نمبر اور سن رائز، دوسروں کے نام جاری کرا سکیں ، وہ اس رنگ میں مدد دیں۔اگر ” الفضل“ کا خطبہ نمبر اور سن رائز ہزار ہزار بھی فی الحال بھجوانا شروع کریں تو اس پر چھ ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ ہے۔اور یہ کوئی ایسا خرچ نہیں۔جماعت کے افراد خدا تعالیٰ کے فضل سے اسے آسانی سے برداشت کر سکتے ہیں۔اگر جوش اور اخلاص کے ساتھ کام کیا جائے تو بہت فائدہ ہو سکتا ہے اور اس تبلیغ کے زمانہ میں اس طرح کام کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔میں اس کے متعلق کوئی خاص تحریک نہیں کر رہا، جیسے تحریک جدید ہے۔صرف یہ کہتا ہوں کہ جن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے، وہ اس رنگ میں مدد کریں اور اگر وہ اس میں حصہ لیں تو یقینا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی وو 194