تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 193
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 1942ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم توجہ کرنے پر مجبور کریں گے تو وہ بگڑیں گے، ناراض ہوں گے ، بعض کہیں گے یہ تو پیچھے ہی پڑ گئے، کیسے ذلیل لوگ ہیں؟ کتنے عجیب لوگ ہیں؟ مگر روح کی آواز کہے گی یہ چیز ہے تو کچھ میٹھی۔اگر یہ جبر ہوتا رہے تو شاید حق کھل ہی جائے تو جب تک یہ جبر نہ کیا جائے، بار بار سنا کر ان کو مجبور نہ کر دیا جائے کہ یالڑیں اور یا سوچیں حقیقی تبلیغ نہیں ہوسکتی۔میں نے ایک گزشتہ خطبہ میں کہا تھا کہ وہ زمانہ آنے والا ہے اور قریب ہے کہ جب تبلیغ کے یہ رستے ہمیں چھوڑنے پڑیں گے اور وہ اختیار کرنے پڑیں گے جو دین کی سلطنت کے رستے ہیں، جیسے دریا اپنا راستہ بناتا ہے۔اب تک تو ہماری تبلیغ کی مثال پانی کی اس بار یک دھار کی ہے جو گلی میں سے گزرتا ہے مگر جب اس کی راہ میں کوئی پتھر آجاتا ہے تو مڑ جاتا ہے۔مگر حقیقی تبلیغ کی مثال اس سیلاب کی ہے، جو مکانوں اور ہر اس چیز کو جو اس کے آگے آئے بہا لے جاتا ہے، وہ اپنا راستہ بناتا ہے، بدلتا نہیں۔دیکھو جب دریائے سندھ جوش میں آتا ہے، جب خدا تعالیٰ اسے حکم دیتا ہے کہ تو اپنے رنگ میں تبلیغ کر ، تو وہ گاؤں کے گاؤں ،تحصیلوں کی تحصیلیں اور اضلاع کے اضلاع کو اجاڑتا ہوا چلا جاتا ہے۔اسی طرح انبیاء کی جماعتیں جب حقیقی تبلیغ کے لئے اٹھتی ہیں تو دیوانگی کا رنگ رکھتی ہیں۔لوگ کہتے ہیں یہ لوگ پاگل ہیں۔وہ بھی کہتے ہیں کہ ہاں ہم پاگل ہیں مگر اس جنون سے پیاری چیز ہمیں اور کچھ نہیں۔مگر اس دن کو کے آنے سے پہلے تبلیغ میں تیزی کی ضرورت ہے۔سمندر کو ایک دن میں کوئی شخص پار نہیں کر سکتا۔جو اسے ار کرنا چاہے، پہلے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے قریب کرے۔ایک چھلانگ میں ہی کوئی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔پس پہلے اس کے لئے تیاری کی ضرورت ہے۔اس سلسلہ میں میں نے تجویز کی ہے کہ سر دست ضرورت ہے کہ ایک حد تک اس طبقہ میں جو علماء رؤسا اور امراء یا پیروں اور گدی نشینوں کا طبقہ ہے، اس تک با قاعدہ سلسلہ کا لٹریچر بھیجا جائے۔”الفضل“ کا خطبہ نمبر یا انگریزی دان طبقہ تک سن رائز ، جس میں میرے خطبہ کا انگریزی ترجمہ چھپتا ہے با قاعدہ پہنچایا جائے۔تمام ایسے لوگوں تک ان کو پہنچایا جائے ، جو عالم ہوں یا امراء، رؤسا یا مشائخ میں سے ہیں اور جن کا دوسروں پر اثر ورسوخ ہے۔اور اس کثرت سے ان کو بھیجیں کہ وہ تنگ آکر یا تو اس طرف توجہ کریں اور یا مخالفت کا بیڑہ اٹھائیں اور اس طرح تبلیغ کے اس طریق کی طرف آئیں ، جسے آخر ہم نے اختیار کرنا ہے۔لٹریچر اور ” الفضل“ کا خطبہ نمبر یا سن رائز بھیجنے کے علاوہ ایسے لوگوں کو خطوط کے ذریعہ بھی تبلیغ کی جائے اور بار بار ایسے ذرائع اختیار کر کے ان کو مجبور کر دیں کہ یا وہ صداقت کی طرف توجہ کریں اور تحقیق 193