تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 195

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 1942ء حاصل کر سکتے ہیں۔تحریک جدید کے نو جوانوں کو بھی اگر ضرورت ہو تو اس کام میں لگایا جاسکتا ہے۔گو یہ ان کی تعلیم کا زمانہ ہے، اس لئے دوسرا کوئی زیادہ کام ان کو نہ کرنا چاہئے۔باقی دوستوں میں سے جن کو توفیق ہو ، وہ چٹھیاں لکھنے ، ان کے تراجم کرنے ، جوابات کو پڑھنے اور دوسری دفتری کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔اس سلسلہ میں دفتری کام کافی ہوگا۔جن کی طرف سے جواب نہ آئے ، ان کو یاد دہانی کرنی ہوگی اور بار بار کرنی ہوگی۔پس میں دوستوں کو عام رنگ میں اس کی تحریک کرتا ہوں۔شاید اللہ تعالیٰ ایسا دن لے آئے کہ تحریک جدید کو اسی سلسلہ میں لگایا جاسکے۔خلافت جو بلی فنڈ میں سے میں نے ابھی تبلیغ پر خرچ کرنا شروع نہیں کیا۔میرا ارادہ ہے کہ اس سے آمد شروع ہو جائے تو پھر کیا جائے۔تعلیمی وظائف اگر چہ شروع کر دیے ہیں مگر تبلیغی اخراجات ابھی اس سے شروع نہیں کئے اور چاہتا ہوں کہ آمد کی صورت پیدا ہو جائے تو پھر یہ اخراجات اس سے کئے جائیں۔سردست میں یہی تحریک کرتا ہوں کہ جو دوست خواہش رکھتے ہیں کہ تبلیغ کے کام میں اور زیادہ حصہ لیں ، وہ اس طرف توجہ کریں اور الفضل خطبہ نمبر یا سن رائز“ کے جتنے پر چے جاری کرا سکتے ہوں، کرائیں۔امداد دینے والے دوست اپنے نام میرے پیش کریں۔میں خود تجویز کروں گا کہ کن لوگوں کے نام یہ پرچے جاری کرائے جائیں؟ پھر اس سلسلہ میں اور جو دوست خدمت کے لئے اپنے نام پیش کرنا چاہیں، وہ بھی کر دیں۔ان کے ذمہ کام لگا دیئے جائیں گے۔مثلاً یہ کہ فلاں قسم کے خطوط فلاں کے پاس جائیں اور ان کے جواب بھی وہ لکھیں۔اس کام کی ابتداء کرنے کے لئے میں نے ایک خط لکھا ہے۔جو پہلے اردو اور انگریزی میں اور اگر ضروت ہوئی تو دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ کرا کے دنیا کے بادشاہوں اور ہندوستان کے راجوں ، مہاراجوں کی طرف بھیجا جائے گا۔اس قسم کے خطوط بھی وقتا فوقتا جاتے رہیں۔مگر اصل چیز «الفضل“ کا خطبہ نمبر یا سن رائز“ ہے۔جو ہر ہفتہ ان کو پہنچتا ہے اور چونکہ خطبہ کے متعلق مسنون طریق یہی ہے کہ وہ اہم امور پر مشتمل ہو۔اس لئے اس میں سب مسائل پر بخشیں آجاتی ہیں۔اس میں سلسلہ کے مسائل بھی ہوتے ہیں، جماعت کو قربانی کی طرف بھی توجہ دلائی جاتی ہے اور مخالفتوں کا ذکر بھی ہوتا ہے اور اس طرح جس شخص کو ہر ہفتہ یہ خط پہنچتا ہے، احمدیت گویانگی ہو کر اس کے سامنے آتی رہے گی اور وہ بخوبی اندازہ کر سکتا ہے کہ اس جماعت کی امنگیں اور آرزوئیں کیا ہیں؟ کیا ارادے ہیں؟ یہ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ دشمن کیا کہتا ہے اور یہ کس رنگ میں اس کا مقابلہ کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں؟ 195