تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 192
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 1942ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم چاہئیں کہ لوگ سنیں اور کہیں کہ واہ واہ احمدی خوب تقریریں کرتے ہیں۔مخالفوں کو دق کر کے تبلیغ کی طرف متوجہ کرنا اب نہیں۔بلکہ اس طرف مائل ہیں کہ لوگ کہیں احمدی اچھا کام کر رہے ہیں۔لیکن یا درکھنا چاہیے کہ ایسے لوگ صداقت کو قبول نہیں کرتے۔صداقت وہی قبول کرتے ہیں جو لڑتے ہیں، مقابلہ کرتے ہیں اور یہ لڑائی اور مقابلہ دو طریق سے ہوتا ہے یا تو کوئی فطرتا مخالف ہو اور یا پھر دلائل کا اصرار اور تکرار کر کے اسے توجہ کرنے پر مجبور کر دیا جائے اور چونکہ وہ ماننا نہیں چاہتا۔اس کی ظاہری شرافت جاتی رہے اور یا پھر اس کے اندر اتنی شرافت ہو کہ وہ تحقیق کی طرف مائل ہو جائے۔اصرار اور تکرار کے دو ہی نتائج ہو سکتے ہیں یا برے اخلاق ظاہر ہو جائیں اور وہ لڑ پڑے اور یا پھر ستی کو چھوڑ کر صداقت کی طرف مائل ہو۔لیکن اب ہماری تبلیغ کا عام طور پر یہ رنگ نہیں ہے اور در حقیقت آج اس کی پہلے کی نسبت بہت زیادہ ضرورت ہے۔ہمیں اس کی ضرورت نہیں کہ لوگ ہماری تعریف کریں۔اگر لوگ ہماری تعریف کریں گے تو ہمیں کیا دیں گے؟ ہمیں تو خدا تعالیٰ نے دنیا کے نظام کو توڑنے کے لئے کھڑا کیا ہے اور ہم نے ان لوگوں کے جھوٹے خیالات کے گھر کو بھی توڑنا ہے ، جو ہماری تعریف کریں۔کیونکہ جب تک پرانی عمارت گرانہ دی جائے ، ہماری نئی عمارت تعمیر نہیں ہو سکتی اور اس وقت تک ہماری اور ان کے خیالات میں صلح نہیں ہے ہو سکتی جب تک کہ ان کے خیالات کی عمارت کو توڑ کر اس کی جگہ ہم اپنے خیالات کی عمارت کھڑی نہ کر دیں، اس وقت تک ہم ان میں مل کر بیٹھیں گے بھی، ان کی مجالس میں بھی جائیں گے ، اکٹھے بھی ہوں گے مگر وحدت خیال جو مذہب کا خاصہ ہے، اس وقت تک پیدا نہ ہو سکے گی۔مذہب مل بیٹھنے پر خوش نہیں ہوتا بلکہ مل جانے پر خوش ہوتا ہے۔و پس ظاہری تعریف سے ہمیں ہرگز خوش نہ ہونا چاہئے جب تک کہ تعریف کرنے والوں کے اور ہمارے خیالات ایک نہ ہوں، جب تک وہ اسلام اور احمد بیت کو ان معنوں میں نہ مان لیں ، جن معنوں میں ہم مانتے ہیں۔اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے جب تک کہ ہم ان کو اپنے اخلاص سے مجبور نہ کر دیں؟ ایک جبر محبت کا بھی ہوتا ہے۔بچہ رو رو کر ماں سے چیز لے لیتا ہے۔یہ ہے تو جبر مگر کیا ماں اسے نا پسند کرتی ہے؟ تم نے دیکھا ہوگا، اگر بچہ کچھ دن نہ مانگے تو ماں کہتی ہے میرا بچہ مجھ سے خفا ہو گیا ہے۔جب وہ مانگتا ہے تو بعض دفعہ اس پر بھی خفا ہوتی ہے۔بعض جاہل مائیں دفع ہو جا، مرجا بھی کہتی ہیں لیکن جب بچہ نہیں مانگتا اور روٹھ جاتا ہے تو پھر بھی کہتی ہے کہ میرا بچہ کیوں چیز نہیں مانگتا؟ بچہ ماں پر جبر تو کرتا ہے لیکن اگر وہ چپ ہو جائے تو بھی وہ پسند نہیں کرتی۔اسی طرح تبلیغ کا جبر ہے۔جب ہم لوگوں کو اس طرف 192