تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 84

خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جون 1941ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ہمارے ملک میں بھی عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جسے جان کنی کے وقت زیادہ تکلیف ہو ، وہ برا آدمی ہوتا ہے۔حالانکہ یہ تکلیف جسمانی طاقت کے لحاظ سے ہوتی ہے۔کوئی شخص بہت مضبوط اور قوی ہوتا ہے اور کوئی کمزور اور نحیف ہوتا ہے۔اب یہ بات ظاہر ہے کہ قوی چیز میں کوئی چیز گری ہوئی ہو تو اس کا نکالنا مشکل ہوتا ہے اور کمزور میں سے اس کا نکالنا آسان ہوتا ہے۔مثلاً کسی کے مسوڑھے کمزور اور گلے سڑے ہوں اور ان میں پیپ پڑی ہوئی ہو تو ایسے مسوڑھوں میں سے دانت آسانی سے نکل آئیں گے۔لیکن جس شخص کے مسوڑھے مضبوط اور قوی ہوں اور اس کے دانتوں کی جڑیں مسوڑھوں کی عمدگی کی وجہ سے مضبوط ہوں تو ڈاکٹر بعض دفعہ کئی کئی منٹ زور لگا کر اس کے دانت نکالتے ہیں۔اب اگر جس شخص کا آسانی سے دانت نکل آئے ، اس کے متعلق کوئی کہنا شروع کر دے کہ اس کا دانت اس لئے آسانی سے نکلا تھا کہ وہ نیک تھا۔اور جس کا تکلیف سے دانت نکلے، اس کے متعلق کہنا شروع کر دے کہ اس کا دانت اس لئے تکلیف سے نکلا تھا کہ وہ برا تھا، تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔کیونکہ اس کا تعلق نیکی اور بدی کے ساتھ نہیں بلکہ مسوڑھوں کی مضبوطی یا کمزوری کے ساتھ ہے۔وہ شخص جس کا دانت آسانی سے نکل آیا تھا، اس کے مسوڑھے گلے سڑے تھے اور وہ جس کا دانت تکلیف سے نکلا، اس کا جسم تندرست اور مسوڑھے مضبوط تھے۔جب مضبوط مسوڑھوں سے دانت نکالا جائے گا تو ا ز ما زیادہ زور لگے گا اور جب کمزور مسوڑھوں سے دانت نکالا جائے گا تو زور کم لگے گا۔جیسے کیچڑ میں اگر کیلا گڑا ہوا ہو تو ایک بچہ بھی آسانی سے اسے نکال سکتا ہے۔لیکن اگر پتھر میں گڑا ہوا ہو تو ایک مضبوط جوان بھی اسے نہیں نکال سکتا۔اسی طرح مضبوط جسم میں سے جب جان نکلتی ہے تو بڑی مشکل سے نکلتی ہے۔جیسے پتھر میں سے کیلا نکالنا مشکل ہوتا ہے۔لیکن کمزور جسم میں سے آسانی کے ساتھ نکل جاتی ہے۔اسی حقیقت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ وہ انسان جس کے دل میں دنیا کی محبت ہو، اس کی جان سخت تکلیف سے نکلتی ہے۔لیکن دوسری طرف وہ لوگ جو دنیا کی خیر خواہی میں گھل رہے ہوتے ہیں ، ان کی جان بھی مشکل سے نکلتی ہے۔جولوگ دنیا کی محبت میں گھل رہے ہوتے ہیں ، ان کی جان تو اس لئے مشکل سے نکلتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ہمیں جو چیز سب سے زیادہ پیاری تھی ، اب وہ ہمارے ہاتھ سے چھٹ رہی ہے اور انبیاء کی جان اس لئے تکلیف سے نکلتی ہے، ان کے دل و دماغ پر اس وقت یہ خیال غالب ہوتا ہے کہ لوگ بغیر نگرانی کے رہ جائیں گے۔معلوم نہیں بعد میں ان کا کیا حال ہو؟ اور وہ چاہتے ہیں کہ بنی نوع انسان میں کچھ اور مدت رہیں۔اس لئے نہیں کہ وہ مزے اڑائیں بلکہ اس لئے کہ لوگ نیک 84