تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 610

خطبہ جمعہ فرمودہ 105اکتوبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم کے مقابلہ پر مسلمانوں کے تاجر پچاس، ساٹھ ہزار ہوں گے مگر اس کے باوجود وہ ہندوؤں کے مقابلہ میں نہیں پنپ سکتے۔کیونکہ ہندوؤں کے مقابلے میں ان کا جتھہ کمزور ہے۔جہاں کہیں منڈی کا سوال آتا ہے یا ایجنسی کا سوال آتا ہے، ہندو ہندوؤں کو دے دیتے ہیں اور مسلمان منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔کوئی پچپیس سال کی بات ہے۔فوج میں سے ایک احمدی کو احمدیت کی وجہ سے نکالا گیا۔میں نے چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو بھیجا کہ وہ اس بارے میں افسران بالا سے ملیں۔وہ کمانڈر انچیف سے ملے تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں، بیج ہے۔لیکن میں بھی مجبور ہوں، ہمیں تین لاکھ فوج کی ضرورت ہے، کیا آپ ہمیں تین لاکھ نو جوان دے سکتے ہیں؟ اگر نہیں دے سکتے تو احمدی اگر چہ مظلوم ہے ، ہمیں احمدی کو ہی نکالنا پڑے گا کیونکہ کثرت کو ہم ناراض نہیں کر سکتے۔چودھری صاحب خفا ہو کر آگئے اور مجھے یہ بات بتائی۔میں نے کہا جو کچھ انہوں نے کہا ہے، ٹھیک ہے، حکومت مجبور ہے۔میں اس صورت حالات کو تسلیم کرتا ہوں۔یہی حالت تجارت میں بھی ہے۔اگر کسی بیرونی ملک میں بعض دردمند مسلمان، مسلمان اخباروں میں اشتہار دلانے کی تحریک کرتے ہیں اور وہاں کے تاجروں سے کہتے ہیں، کیوں تم مسلمان اخباروں میں اشتہار نہیں دیتے تو وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے اخباروں کو پڑھنے والے کوئی تاجر بھی ہیں؟ اگر نہیں تو انہیں اشتہار دے کر کیا فائدہ؟ ہند و اگر چہ ہمیں گالیاں دیتے ہیں۔ہمارے مال کے بائیکاٹ کی تلقین کرتے ہیں مگر ہر ہندو اخبار کے پڑھنے والے سو ، دوسو تاجر ہوتے ہیں۔اگر سو بائیکاٹ کے دلدادہ ہوں گے تو سو ایسے بھی ہوں گے، جو غیر ملکی مال لینے والے ہوں گے۔اس طرح جب کسی جگہ پر ایجنسی لینی ہو تو جو بڑے بڑے کارخانے والے ہیں، وہ سوال کرتے ہیں کہ کہاں کہاں پر ہمارا مال پھیلا سکتے ہو؟ اگر وہ کہے کہ جناب اپنی دوکان میں تو تاجر کہے گا کہ اس کو مال دینے کی کیا ضرورت ہے؟ جس کی تجارت کا کوئی پھیلاؤ نہیں۔یہ جو دوسرا آدمی ایجنسی لینے آیا ہے، اس کی دوکان کی دوسو شاخیں ہیں یا پچاس یا سو شاخیں۔وہ سارے ہندوستان میں اس کام کو پھیلا سکتا ہے، ہم اس کو دیں گے ہم کو نہیں دیں گے۔تو یہ ساری بات معقول ہے، ہم ان کو رد نہیں کر سکتے۔اگر ہم آرگنا ئز بیشن کریں گے تو تجارت کے ایسے راستے کھل جائیں گے کہ جن کی وجہ سے ہم بیشتر قسم کی تجارت پر قابو پاسکیں گے اور ہمیں اس کے لئے نو جوانوں کی ضرورت ہے۔وہ نو جوان ، جو فوج سے فارغ ہوں گے اور وہ نوجوان، جو نئے جوان ہوئے ہیں اور ابھی کوئی کام شروع نہیں کیا۔میں ان سے کہتا ہوں کہ اپنی زندگی وقف کریں۔ایسے رنگ میں نہیں کہ ہمیں دین کے لئے جہاں چاہیں بھیج دیں، ہم چلے جائیں گے بلکہ ایسے رنگ میں کہ ہمیں جہاں بھجوایا جائے ، ہم وہاں 610