تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 611
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمودہ 05اکتوبر 1945ء چلے جائیں گے اور وہاں سلسلے کی ہدایت کے ماتحت تجارت کریں گے۔اس رنگ میں ہمارے مبلغ سارے ہندوستان میں پھیل جائیں گے۔وہ تجارت بھی کریں گے اور تبلیغ بھی ہمیں بعض باتوں کی وجہ سے امید ہے کہ ایسے کام نکل سکیں گے، جن کی وجہ سے ہم نئے کام کرنے والوں کو بہت سی امداد دے سکیں گے، اخلاقی لحاظ سے بھی اور مالی لحاظ سے بھی تنظیم کی وجہ سے ہم اخلاقی طور پر جو کامیاب تاجر ہیں، ان پر زور ڈالیں گے کہ وہ اپنے بھائیوں کو کھڑا کرنے کی کوشش کریں کیونکہ ان کے کھڑے ہونے سے وہ خود کھڑے ہوں گے۔اس وقت آگے آنے والے نوجوانوں کے لئے ترقی کا بہت سا امکان ہوگا۔یہ چھ ، سات ہزار نو جوان تجارت کا کام کریں گے اور ساتھ تبلیغ بھی کریں گے اور اس طرح یہ چھ سات ہزار مبلغ ہمیں مفت میں مل جائیں گے۔یہ کتنی بڑی بات ہے۔ہم اس دن کے امیدوار ہیں کہ ہمیں پانچ ہزار ساری زندگی وقف کرنے والے مبلغ مل جائیں بلکہ لاکھ یا اس سے بھی زیادہ آدمی مل جائیں۔مگر جب تک وہ دن نہیں آتے، ہمیں اپنی تبلیغ کو وسیع کرنے کے لئے جو ذرائع میسر ہیں، ان کو تو استعمال کرنا چاہئے اور تاجروں کو باہر بھیجنا چاہئے۔ہم زمینداروں سے تو نہیں کہہ سکتے کہ تم فلاں جگہ پر چلے جاؤ کیونکہ وہ زمین کو ساتھ نہیں لے جاسکتے لیکن تاجر دنیا میں ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں۔زمیندار کے لئے جب تک دوسری جگہ پر اتفاقاً کوئی زمین کا ٹکڑا نہ بک رہا ہو، کسی جگہ کی کوئی گنجائش نہیں۔مگر کوئی شہر ایسا نہیں ، جہاں تاجروں کے لئے ایک، دو کی گنجائش نہ ہو۔کوئی چھوٹے سے چھوٹا قصبہ نہیں ہو سکتا، جہاں ایک مزید تا جر کی جگہ نہ ہو۔ہر ایک گاؤں اور قصبے میں ایک، دو، چار، پانچ ، دس تاجروں کے لئے جگہ ہوتی ہے۔مگر ہر گاؤں میں زمیندار کے لئے مزید گنجائش نہیں بلکہ بعض گاؤں ایسے ہیں، جہاں سے بعض زمینداروں کو نکالنا چاہئے کیونکہ وہاں پر دودو، چار چار گھماؤں زمین زمینداروں کے پاس رہ گئی ہے، جس پر گزارہ نہیں ہوسکتا۔مگر تاجروں کے لئے ہر جگہ کھپت کی گنجائش ہے یا صنعت و حرفت کا دروازہ کھلا ہے۔یہ دونوں ملتی جلتی چیزیں ہیں۔کوئی سائیکلوں کی مرمت کا کام شروع کر دے، کوئی موٹروں کی مرمت کا کام شروع کر دے یا اسی قسم کا اور کام شروع کر دے اور اس طرح ہمارے نوجوان مختلف شہروں میں پھیل جائیں۔کیونکہ ہر ایک جگہ ان کاموں کی گنجائش موجود ہے۔اگر چار پانچ لاکھ بھی آدمی ہوں تاہم ان کو دنیا میں کہیں نہ کہیں لگا سکتے ہیں۔لیکن ایک زمیندار کو اس کی جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ نہیں بھیج سکتے۔اگر زمیندار کو کہیں باہر بھیج دیں گے تو وہ دو کوڑی کا بھی نہیں رہے گا۔مگر تا جر دنیا کے ہر گوشہ میں کام نکال لیتے ہیں۔انگلستان میں ہندوستانی کتنے ذلیل سمجھے جاتے ہیں مگر پندرہ ہیں ہزار آبادی وہاں بھی تجارت سے گزارہ کر رہے ہیں۔سارے انگلستان میں قریباً دولاکھ کے قریب ایشیائی رہتے ہیں، جنہیں انگلستان کے لوگ حقارت سے دیکھتے ہیں۔مگر وہ اپنے پیشوں کی وجہ سے کامیاب ہورہے ہیں۔لیکن انگلستان میں جا کر دیکھو! کتنے ہندوستانی زمیندار ہیں؟ تو تم کو 611