تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 609

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود 1050اکتوبر 1945ء ہے۔اور یہ ابتدا ہے۔قادیان میں دیکھو! اس وقت پانچ سو آدمی تجارت کر رہے ہیں، کئی کھلی جگہوں پر اور کئی گھروں پر۔تو ہمارے لئے یہ ایک بہت کامیاب راستہ ہے، جس سے دین و دنیا دونوں کی بہتری کی صورت پیدا کی جاسکتی ہے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ہم اپنی آواز کو بلند کرنے کے لئے ان دو ہزار جگہوں پر مبلغین نہیں رکھ سکتے۔ان ساری جگہوں پر یہ بھی نہیں کہ ہمارے احمدی موجود ہوں۔دو ہزار شہروں میں سے ڈیڑھ دوسو شہر ایسے ملیں گے، جہاں ہمارے احمدی ہیں، باقی اٹھارہ سو شہر ایسے ہیں، جہاں کوئی احمدی نہیں۔کچھ اس سے چھوٹے چھوٹے قصبے بھی تجارت کے قابل ہیں۔یہ سات، آٹھ ہزار کے قریب ہو جاتے ہیں۔ان سات آٹھ ہزار قصبوں میں سے ڈھائی تین سو قصبے ایسے ہیں، جہاں احمدی جماعتیں قائم ہیں۔باقی پونے سات ہزار یا پونے آٹھ ہزار جگہیں ایسی ہیں، جہاں کوئی احمدی نہیں۔اگر ہم پونے سات یا پونے آٹھ ہزار آدمی تبلیغ کے لئے ان جگہوں پر بھیجیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر پونے سات یا پونے آٹھ لاکھ روپیہ ماہوار خرچ ہوگا اور تقریبا ایک کروڑ روپیہ سالانہ خرچ ہوگا۔یہ تو ایک صورت ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ اگر ہمیں محنت کرنے والے اور قربانی کرنے والے نوجوان مل جاویں۔جو ان جگہوں پر جا کر سلسلہ کی ہدایت کے مطابق تجارت کریں اور اس کام میں کامیاب ہو جائیں تو ان کی دس پندرہ لاکھ ماہوار آمدنی ہوگی اور دس پندرہ لاکھ سالانہ کا چندہ ان سے آئے گا۔اب دیکھو کہ ایک صورت میں تو ایک کروڑ روپیہ خرچ ہوتا ہے اور دوسری صورت میں پندرہ لاکھ روپیہ آمد ہوتی ہے اور یہ لازمی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی اسی میں ہوگی کہ تبلیغ بھی ہو اور بجائے اس کے کہ خزانہ خالی ہو، خزانہ بھرا ر ہے۔اس کے لئے کئی لائنیں مرکز نے سوچی ہیں اور ان کے ذریعہ سے ایسے تاجروں کی ایک حد تک ہم بھی مدد کر سکتے ہیں۔اگر ہمارے پرانے تاجر بھی اس بات کی اہمیت کو سمجھیں کہ جو نئے تاجر ہیں، ہم نے ان کو کام سکھلانا ہے تو اس سے ان کا اپنا بھی فائدہ ہوگا۔احمدی تاجروں کے بڑھنے سے منڈی میں ان کی جڑیں مضبوط ہو جائیں گی۔تجارت کو رقابت ہی تباہ کرتی ہے۔جس کا جتھہ مضبوط ہو وہ بچ جاتا ہے اور جو کمزور ہو وہ اس رقابت میں تباہ ہو جاتا ہے۔جس طرح زمینداروں میں ہوتا ہے۔کوئی تاجر کامیاب تجارت نہیں کر سکتا ، جب تک اس کا جتھہ مضبوط نہ ہو۔دوسروں کے بینکوں کو توڑنے کے لئے بینک آپس میں سمجھوتہ کر لیتے ہیں اور تاجر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مقابل کے تاجروں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر مقابل والے کا جتھہ مضبوط ہو تو وہ بچ جاتا ہے اور اگر وہ جتھے والا نہ ہو تو مقابل کے تاجر اس کا مقابلہ کر کے اسے تباہ کر دیتے ہیں۔آج احمدی تاجر انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ دو چار سو تاجر ہیں۔اس 609