تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 318
خطبہ جمعہ فرمودہ 31 مارچ 1944ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم ہے۔ایک ملک کا میں نے خاص طور پر ذکر کیا تھا کہ وہاں کے ایک ایسے آدمی نے بیعت کر لی ہے، جو بہت بڑا رسوخ اور اثر رکھنے والا ہے۔میں نے مصلحتنا کہ دیا تھا کہ اس ملک کا نام شائع نہ کیا جائے۔اس کے بعد اب افریقہ سے ہمارے مبلغ مولوی نذیر احمد صاحب کی ایک تازہ چٹھی آئی ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ یہاں عیسائیت کے خلاف اور اسلام کی تائید میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک زبردست رو چل پڑی ہے۔کئی نواب اور رؤساء ہمیں چٹھیاں لکھ رہے ہیں کہ ہمارے پاس جلدی پہنچو اور ہمیں اسلام کی حقیقت بتاؤ۔مگر ہم صرف دو آدمی ہیں، ہر جگہ پہنچ نہیں سکتے لیکن لوگوں کا اصرار روز بروز بڑھتا جارہا ہے اور بعض تو ایک لمبے عرصے سے ہمیں بلا رہے ہیں مگر پھر بھی ہم آدمیوں کی قلت کی وجہ سے ان تک نہیں پہنچ سکے۔انہوں نے لکھا کہ ڈیڑھ سال سے ایک چیف ہمیں خط لکھ رہا تھا کہ جلدی آؤ اور مجھے آکر اسلام کی حقیقت سمجھاؤ مگر ہم نہ جا سکے اور اب خبر آئی ہے کہ وہ مر گیا ہے۔اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری ہم پر ہے کہ وہ اسلام کی تبلیغ کے لئے ہم کو بلاتا رہا مگر ہم نہ جاسکے۔انہوں نے لکھا ہے کہ یہ رواس تیزی کے ساتھ چل رہی ہے کہ اب ضروری ہے کہ ہندوستان سے بارہ مبلغ اس ملک میں روانہ کئے جائیں۔بہت سے نواب، رؤساء اور ہزاروں کی تعداد میں عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ ہمارے مبلغ ان کے پاس پہنچیں اور انہیں اسلام کی تبلیغ کریں۔پس انہوں نے تبلیغ کے لئے بارہ آدمیوں کا مطالبہ کیا ہے۔وہ واقفین زندگی، جن کو تیار کیا جارہا ہے، ان کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ ان کی علمی میدان میں جماعت کا رعب قائم رکھنے کے لئے ضرورت ہے۔پس انہیں اس تعلیم سے فارغ کر کے وہاں تبلیغ کے لئے نہیں بھجوایا جا سکتا۔لیکن میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جلد سے جلد اپنی تعلیم مکمل کرنے کی کوشش کریں۔یہ سوال قطعاً سنا نہیں جاسکتا کہ تعلیم کا پانچ یا چھ یا سات گھنٹے وقت ہے۔اگر وہ مسلسل چوبیس گھنٹے پڑھ کر بھی اپنی تعلیم کو جلد سے جلد مکمل کر لیتے ہیں، تب بھی انہیں سمجھنا چاہیئے کہ انہوں نے پوری قربانی ادا نہیں کی۔پس ان سے تو میں یہ کہتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنی تعلیم کو مکمل کرنے کی کوشش کریں اور جماعت سے میں یہ کہتا ہوں کہ ان کو اس کام سے چونکہ فارغ نہیں کیا جاسکتا، اس لئے ضروری ہے کہ جماعت کے اور نوجوان آگے بڑھیں اور ان اغراض کے لئے اپنے نام پیش کریں۔اگر زمیندار گریجوایٹ ہمیں مل جائیں تو انہیں زمینوں کی نگرانی کے لئے بھیجا جا سکتا ہے یا ایسے مضبوط نوجوان، جو زراعت میں گریجوایٹ تو نہ ہوں لیکن تعلیم یافتہ ہوں اور زمیندارہ کام سے دلچسپی رکھتے ہوں، وہ بھی اپنے نام پیش کر سکتے ہیں۔ان میں سے کسی کو اکا ؤنٹنٹ بنا دیا جائے گا، کسی کو نشی بنا دیا جائے گا اور کسی کو اور کام سپر د کر دیا جائے گا۔318