تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 317

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبه جمعه فرموده 31 مارچ 1944ء کنگن دیکھ رہا ہوں۔اس نے عرض کیا ، ہاں یاد ہے۔آپ نے فرمایا تو لو، یہ کسری کے سونے کے کنگن اور انہیں اپنے ہاتھوں میں پہنو۔اس نے اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے اور کہا عمر آپ مجھے اس بات کا حکم دیتے ہیں، جس سے شریعت نے منع کیا ہے؟ شریعت کہتی ہے کہ مردوں کے لئے سونا پہنا جائز نہیں اور آپ مجھے یہ حکم دے رہے ہیں کہ میں کسری کے سونے کے کنگن اپنے ہاتھوں میں پہنوں۔حضرت عمر جس طبیعت کے تھے، وہ سب کو معلوم ہے، آپ اسی وقت کھڑے ہو گئے کوڑا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور فرمایا: خدا کی قسم ! اگر تم یہ سونے کے کنگن نہیں پہنو گے تو میں کوڑے مار مار کر تمہاری کمر ادھیڑ دوں گا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا تھا ، وہی میں پورا کروں گا اور تمہارے ہاتھوں میں میں سونے سے کنگن پہنا کر رہوں گا۔تو در حقیقت یہی نیکی اور یہی حقیقی ایمان ہے کہ انسان وہی طریق اختیار کرے، جس طریق کے اختیار کرنے کا امام اسے حکم دے۔وہ اگر اسے کھڑا ہونے کے لئے کہے تو کھڑا ہو جائے اور اگر ساری رات بیٹھنے کے لئے کہے، وہ بیٹھ جائے۔اور یہی سمجھے کہ میری ساری نیکی یہی ہے کہ میں امام کے حکم کے ماتحت بیٹھا ہوں۔پس جماعت میں یہ احساس پیدا ہونا چاہئے کہ نیکی کا معیار یہی ہے کہ امام کی کامل اطاعت کی جائے۔امام اگر کسی کو مدرس مقرر کرتا ہے تو اس کی تبلیغ ہی ہے کہ وہ لڑکوں کو عمدگی سے تعلیم دے، امام اگر کسی کو ڈاکٹر مقرر کر کے بھیجتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ لوگوں کا عمدگی سے علاج کرے، امام اگر کسی کو زراعت کے لئے بھیج دیتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ زمین کی عمدگی سے نگرانی کرے اور امام اگر کسی کو صفائی کے کام پر مقرر کر دیتا ہے تو اس کی تبلیغ یہی ہے کہ وہ عمدگی سے صفائی کرے۔وہ بظاہر جھاڑو دیتا نظر آئے گا، وہ بظاہر صفائی کرتا دکھائی دے گا مگر چونکہ اس نے امام کے حکم کی تعمیل میں ایسا کیا ہوگا ، اس لئے اس کا جھاڑو دینا، ثواب میں اس مبلغ سے کم نہیں ہوگا، جو دلوں کی صفائی کے لئے بھیجا جاتا ہے۔وہ زمین پر جھاڑو دے رہا ہو گا لیکن فرشتے اس کی جگہ تبلیغ کر رہے ہوں گے۔کیونکہ وہ کہیں گے، یہ وہ شخص ہے، جس نے نظام میں اپنے لئے ایک چھوٹی سے چھوٹی جگہ پسند کر لی اور امام کے حکم کی اطاعت کی۔پس ایک نظام کے اندر رہ کر کام کرو اور تمہارا امام، جس کام کے لئے تمہیں مقرر کرتا ہے، اس کو کرو کہ تمہارے لئے وہی ثواب کا موجب ہوگا تمہارے لئے وہی کام تمہاری نجات اور تمہاری ترقی کا باعث ہوگا۔میں دیکھتا ہوں کہ اب خدا تعالی تبلیغ کے لئے نئے نئے رستے کھول رہا ہے۔ادھر مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ اب کفر پر حملے کا وقت آگیا ہے اور ادھر چاروں طرف ایسے حالات پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اب اسلام اور احمدیت کو جلد سے جلد دنیا میں پھیلانے کا 317