تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 85
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 7 دسمبر 1934ء کے لئے ہماری جماعت نے یہ تحریک کی ہے کہ صرف ایک ہی کھانا کھایا جائے تو میزبان کے دل میں ضرور احساس پیدا ہوگا اور یہ بھی ایک رنگ کی تبلیغ ہو جائے گی اور اگر وہ بھی اس تجویز پر عمل پیرا ہو گا تو اس کی اقتصادی حالت بھی درست ہو گی۔میں دیکھ رہا ہوں کہ میری اس سکیم کا اثر غیروں پر بھی گہرا ہے۔بہت سے لوگ مجھ سے خود ملے ہیں اور کئی خطوط بھی آتے ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں اور سکھوں میں بھی بعض لوگ تحریک کر رہے ہیں کہ ہم بھی اس پر عمل کریں اور میں نے دیکھا تو نہیں سنا ہے کہ بعض اخبارات نے بھی اس پر نوٹ لکھے ہیں۔اس سکیم کے ضمن میں ایک اور بات ہے میں نے جو سادگی کی ہدایت کی ہے کہ کھانا سادہ اور لباس سادہ ہو اس کا اثر باہر کے احمدی تاجروں پر تو شاید اتنا نہ پڑے مگر قادیان کے تاجروں پر اس کا اثر زیادہ پڑے گا۔ایک طرف تو ہم ان سے چندوں کی اپیلیں کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کے گاہکوں کو کھانے اور لباس میں کمی کرنے کی تعلیم دے کر ان کی بکری کم کرتے ہیں۔اس سے انہیں یقیناً نقصان ہوگا مگر جب میں نے یہ تحریک کی تھی تو اس کا علاج بھی ساتھ ہی سوچا تھا تا دوسرے ذرائع سے ان کو فائدہ پہنچ سکے۔باہر جو احمدی دوکاندار ہیں ان کی دوکانیں احمدیوں کی بکری پر نہیں چلتیں بلکہ ان کے گاہک کو غیر لوگ بھی ہوتے ہیں بلکہ اگر ایک گاہک احمدی ہو تو دس بارہ دوسرے ہوتے ہیں اس لئے یہ تحریک باہر کے احمدیوں کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتی جتنا قادیان کے دوکانداروں کو۔پھر باہر کے دوکانداروں کو احمدی گاہکوں کی کفایت سے جتنا نقصان پہنچے گا اس سے زیادہ وہ خود کفایت کر کے فائدہ اٹھا سکیں گے مگر قادیان کے احمدی دوکانداروں کی بکری نوے فیصدی احمدیوں سے ہوتی ہے اس لئے وہ ضرور توجہ کے مستحق ہیں اور اس لئے انہیں نقصان سے بچانے کیلئے میں نے دو تجاویز کی ہیں۔ایک تجویز تو یہ ہے کہ یہاں ایک خاصہ طبقہ ایسے لوگوں کا ہے جو سودا سلف باہر سے خریدتا ہے۔بعض لوگ تو کھانے پینے کی چیزیں بھی بٹالہ امرتسر سے خریدتے ہیں اور بعض کپڑا وغیرہ اور دیگر استعمال کی چیزیں بٹالہ، امرتسر یا لاہور سے خرید لیتے ہیں۔بعض دفعہ اس لئے کہ یہاں مناسب چیزیں نہیں ملتیں اور بعض دفعہ اس لئے کہ باہر سے سنتی چیزیں مل جاتی ہیں یا مقابلہ اچھی مل جاتی ہیں۔میں نے خود دیکھا ہے کہ جب لاہور وغیرہ شہروں میں جاتا ہوں تو خود بھی اور گھر کے لوگ بھی وہاں سے ضرورت کی چیزیں خرید لاتے ہیں۔اگر چہ میں کھانے پینے کی چیز میں باہر سے نہیں منگوا تا مگر مجھے معلوم ہے کہ یہاں کے لوگوں کی کی 85