تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 84
خطبہ جمعہ فرموده 7 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اس کے علاوہ زمینداروں کے متعلق ایک اور سوال ہے کہ ان کے کھیتوں میں مولیاں گاجریں ہوتی ہیں اور وہ ان کو بھی استعمال کر لیتے ہیں لیکن ان کیلئے وہ ایسی ہی ہیں جیسے شہروں کے رہنے والے لوگوں یا زمینداروں میں سے بھی امیر لوگوں کے لئے دودھ ہوتا یا پھل ہوتا ہے۔اگر روٹی کھاتے وقت وہ ساتھ گاجر یا مولی رکھ لیں تو اس سے عیاشی نہیں ہو سکتی نہ ان کی بیویوں کو اس کے پکانے پر وقت صرف کرنا پڑتا ہے نہ ہی اسے کھانے کے لئے انہیں خرچ کرنا پڑتا ہے وہ یہ چیزیں بیچنے کیلئے ہوتے ہیں اس میں سے کوئی چیز اگر خود کھالی تو کوئی حرج نہیں۔پس یہ ان کا جائز حق ہے بلکہ ضروری ہے کہ وہ ایسی چیزوں کا استعمال کیا کریں کیونکہ تر کاری کا استعمال صحت کے لئے ضروری ہوتا ہے اور دیہات میں لوگ سبزی تر کاری کم استعمال کرتے ہیں زیادہ تر دالیں وغیرہ ہی کھائی جاتی ہیں اور اگر زمیندار لوگ ایسی چیزیں کھا لیا کریں تو یہ ان کی صحت کو بھی بڑھانے کا موجب ہوگا اور دوسرا سالن نہیں کہلا سکے گا۔چوتھی بات دعوت کے متعلق ہے۔میں پہلے بھی اس کی اجازت دے چکا ہوں کہ دعوتوں کے موقع پر ایک سے زیادہ کھانے پکانے کی اجازت ہے۔ہاں اپنے گھر کی دعوت میں کوشش یہ کرنی چاہئے کہ خود ایک ہی کھائیں اور اگر دوسرے کے ہاں دعوت ہو اور وہ بے تکلف ہو تو اس سے بھی کہہ دیا جائے کہ میں ایک ہی کھانا کھاؤں گا لیکن اگر دعوت کرنے والا بے تکلف نہ ہو اور اس کی طرف سے شکوہ کا ڈر ہو تو پھر متعدد کھانے بھی کھائے جا سکتے ہیں۔مہمان کو کھلاتے وقت بھی یہی بات مد نظر رہے اگر مہمان ایسا ہو کہ ڈر ہو کہ وہ اسے برا منائے گا کہ میز بان خود ایک کھانا کھاتا ہے تو مہمان کے ساتھ سب کھانوں میں شریک ہو جائے۔اگر اس کا خطرہ نہ ہو تو پھر خود ایک ہی کھانا کھائے اس کے آگے ایک سے زیادہ کھانے رکھ دے مگر جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں گو دعوتوں میں ایک سے زیادہ کھانوں کی اجازت ہے مگر اس میں بھی گزشتہ دستور سے کمی کی کوشش کی ضرورت ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر غیروں کے ہاں کی دعوتوں کے مواقع پر بھی ایک ہی کھانے پر اصرار کیا جائے تو اقتصادی فوائد کے علاوہ اس سے پروپیگنڈہ بھی بہت ہو سکتا ہے۔مثلاً جب کوئی کہے گا کہ میں ایک ہی کھانا کھاؤں گا تو دوسرا شخص ضرور اس کی وجہ دریافت کرے گا کہ کیوں ایک ہی کھانا کھاؤ گے؟ اس کا جواب یہ دے گا کہ اس وقت اسلام اور سلسلہ احمدیہ جن حالات سے گزر رہا ہے وہ بہت پریشان کن ہیں اور ان کے لئے یہ موقع بہت نازک ہے اس لئے میر افرض ہے کہ اپنے آپ کو اس جنگ کے لئے تیار کروں جو اسلام اور سلسلہ کے وقار کے لئے ہمیں جلد لڑنی پڑے گی اور جفاکشی کی عادت ڈالنے اور چسکے سے بچنے 84