تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 86
خطبہ جمعہ فرمودہ 7 دسمبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ایک کافی تعداد ہے جو کھانے پینے کی اشیاء بھی بٹالہ وغیرہ سے خریدتے ہیں اس لئے میں حکم تو نہیں دیتا مگر تحریک کرتا ہوں کہ جماعت کے ایسے دوست جنہیں اللہ تعالیٰ نے ملی مفاد کے سمجھنے کی توفیق دی ہو وہ سب چیزیں یہاں سے ہی خریدا کریں اگر اس سے انہیں کوئی نقصان ہوگا تو یہ نقصان بھی فائدہ کا ہی موجب ہوگا اس لئے جہاں تک ہو سکے یہاں کے دوکانداروں سے ہی چیزیں خریدا کریں۔اس سلسلہ میں میں یہاں کے دوکانداروں سے بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے وہ چیزوں کی قیمت کم رکھا کریں اور تھوڑی بکری پر زیادہ منافع کا اصول نہ رکھیں بلکہ زیادہ بکری پر تھوڑے منافع کا اصول رکھیں دونوں طرح سے ان کے گھر میں اتنا ہی آجائے گا۔پس وہ نفع کم لگائیں۔دوسری تجویز اس سلسلہ میں یہ ہے کہ جو دوست باہر سے یہاں آتے ہیں وہ بھی ایسی چیزیں جو یہاں سے خرید کر لے جاسکیں جیسے کپڑے وغیرہ یہاں سے تیار کر لیا کریں۔میری اس اقتصادی تعلیم سے انہیں جو تم بچے گی قادیان سے اشیاء خریدنے میں اگر اس میں سے کچھ حصہ خرچ ہو جائے تو بھی وہ نفع میں رہیں گے۔میں نے اپنی ذات میں تو اس پر عمل بھی شروع کر دیا ہے۔اب جو میں لاہور گیا تو گھر کے لئے بعض چیزوں کی ضرورت تھی میرے بچوں یا بیویوں نے کہا کہ فلاں فلاں چیز کی ضرورت ہے مگر جو چیزیں قادیان میں مل سکتی ہیں یا جن کے قائم مقام یہاں مل سکتے ہیں ان کے متعلق میں نے یہی کہا کہ وہ قادیان سے ہی جا کر خریدیں گے اس طرح قادیان کے دوکانداروں کا کچھ نقصان دور ہو جائے گا بلکہ ممکن ہے کہ بالکل ہی دور ہو جائے۔اسی طرح جلسہ سالانہ یا مجلس شوری کے موقع پر جو لوگ آتے ہیں وہ سارے کے سارے بڑے شہروں کے رہنے والے ہی نہیں ہوتے بلکہ کئی ایسے مقامات پر رہائش رکھنے والے ہوتے ہیں جہاں چیزوں کی قیمتیں ایسی ہی ہوتی ہیں جیسی یہاں، وہ بھی اگر ایسی چیزیں جو آسانی سے ساتھ لے جاسکیں یہاں سے خرید لیں یا کپڑے یہاں سے بنوالیا کریں تو یہاں کے دوکانداروں کی بکری زیادہ ہوسکتی ہے۔چودھری نصر اللہ خان صاحب مرحوم کئی دفعہ اپنے کپڑے یہاں سے بنوایا کرتے تھے۔کسی نے ان سے کہا کہ آپ رہتے سیالکوٹ میں ہیں اور کپڑے یہاں سے بنواتے ہیں یہ کیا بات ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس سے دُہرا ثواب مجھے مل جاتا ہے۔اس سے قادیان میں روپیہ کے چلن میں زیادتی بھی ہو جاتی ہے اور بھائی کو فائدہ بھی پہنچ جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر چودھری صاحب مرحوم کے نقش قدم پر چلنے والے چند سو دوست بھی پیدا ہو جائیں تو قادیان کے دوکانداروں کا نقصان ہی دور نہیں ہو سکتا بلکہ انہیں فائدہ بھی پہنچ سکتا ہے۔86