تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 66
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول دجالیت کا فتہ کہیں احراریوں کی شکل میں کہیں کسان سبھا کی صورت میں اور کہیں سوشلزم کے نام کے نیچے کام کر رہا ہے۔یہ سب ایک ہی روی بالشویک کی شاخیں ہیں خواہ براہ راست ان کے اثر کے نیچے، خواہ ان کے خیالات سے کلی یا جزئی طور پر متاثر ہو کر۔بولشویزم کی غرض مذہب کو باطل کرنا ہے۔ان تحریکوں کا اثر بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ مذہب کے خلاف پڑتا ہے۔بظاہر ان شاخوں میں کام کرنے والے بعض افراد مذہب کی تائید کرتے ہیں مگر حقیقت میں ان کی تحریکوں کا مذہب سے تعلق نہیں بلکہ مجموعی اثرات کے خلاف ہی پڑتا ہے۔ا صوبہ سرحد کے سرخ پوشوں کو دیکھو کتنا اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن جب موقع آیا تو کانگریس کے ساتھ مل گئے۔پس ان لوگوں کا دعویٰ نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ جا کدھر رہے ہیں؟ یہ ہو ہی کس طرح سکتا ہے کہ ایک اسلام کی خیر خواہ اور اسلام کی محافظ جماعت ہو اور آریہ عیسائی وغیرہ اس کی مدد کریں؟ یہی دیکھ لو یہاں کے آریوں نے احراریوں کو جلسہ کرنے کے لئے جگہ دی۔ہند و افسر احراریوں کی ہمارے خلاف مدد کرتے رہے۔اگر ہم اسلام کو تباہ کرنے والے اور مسلمانوں کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈالنے والے ہیں تو چاہئے تھا کہ غیر مسلم دوڑ کر ہمارے پاس آتے اور کہتے ہم تمہاری مدد کرنے کے لئے آئے ہیں مگر ہوتا کیا ہے یہ کہ ہماری بجائے احراریوں کی مدد کی جاتی ہے۔پھر اس کی کیا وجہ تھی کہ بعض افسر تنخواہ تو گورنمنٹ سے پاتے تھے مگر مدد احراریوں کی کر رہے تھے ؟ دراصل وہ حرام خوری کر رہے تھے کہ حکومت سے تنخواہیں لے کر حکومت ہی کی جڑ کاٹ رہے تھے اور اس کے دشمنوں کی مدد کر رہے تھے۔غرض اس قسم کی تحریکیں پیدا ہو رہی ہیں جو جلد سے جلد موجودہ نظام دنیا میں تغیر پیدا کر رہی ہیں ایسا تغیر جو اسلام کے لئے سخت مضر ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے آج سے دس سال قبل میں نے ریز روفنڈ قائم کرنے کے لئے کہا تھا تا کہ اس کی آمد سے ہم ہنگامی کام کر سکیں مگر افسوس جماعت نے اس کی اہمیت کو نہ سمجھا اور صرف 20 ہزار کی رقم جمع کی اس میں سے کچھ رقم صدر انجمن احمدیہ نے ایک جائیداد کی خرید پر لگا دی اور کچھ رقم کشمیر کے کام کے لئے قرض لے لی گئی اور بہت تھوڑی سی رقم باقی رہ گئی۔یہ رقم اس قدر قلیل تھی کہ اس پر کسی ریز روفنڈ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی تھی۔ہنگامی کاموں کے لئے تو بہت بڑی رقم ہونی چاہئے جس کی معقول آمدنی ہو۔پھر اس آمدنی میں سے ہنگامی اخراجات کرنے کے بعد جو کچھ بچے اس کو اسی فنڈ کی مضبوطی کے لئے لگا دیا جائے تا کہ جب ضرورت ہو اس سے کام لیا جاسکے۔دوستوں نے اس کے متعلق بڑے بڑے وعدے کئے۔ایک صاحب نے کہا میرے لئے ایک لاکھ روپیہ جمع کرنا بھی مشکل 66