تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 67

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 30 نومبر 1934ء نہیں مگر افسوس وعدوں کو پورا کرنے کی طرف توجہ نہ کی۔جن صاحب نے ایک لاکھ کا وعدہ کیا تھا وہ ایک سو امہیا نہ کر سکے۔سب سے زیادہ حصہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے لیا تھا۔انہوں نے دو تین ہزار کے قریب رقم دی تھی باقی لوگوں نے تھوڑی تھوڑی رقم دی اور پھر خاموش ہو گئے اور پانچ چھ سال سے اس میں کوئی آمد نہیں ہوئی۔میں اب پھر جماعت کو اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اس رقم کا جمع کر لینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔میاں احمد دین صاحب زرگر کشمیر فنڈ کے لئے پھرتے رہتے ہیں کئی لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنا خرچ لیتے ہیں۔بے شک ان کو خرچ دیا جاتا ہے کیونکہ کام کرنے والے کو خرچ کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے مگر میں نے دیکھا ہے جہاں کے متعلق مقامی لوگ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں مل سکتا وہاں سے بھی وہ 40 50 روپے کشمیر ریلیف فنڈ میں جمع کر لیتے ہیں اور پھر لوگ کہتے ہیں کہ ان کو وصول کرنے کا ڈھنگ آتا ہے۔اس سے معلوم ہوا وصول کرنے کے لئے ڈھنگ کی ضرورت ہے یہ نہیں کہ ملتا نہیں۔اگر ایک ہزار آدمی بھی اس بات کا تہیہ کرلے کہ ریز روفنڈ جمع کرنا ہے اور ہر ایک کی رقم دوسو بھی رکھ لی جائے تو بہت بڑی رقم ہر سال جمع ہوسکتی ہے اور پھر اس کی آمد سے ہنگامی کام بآسانی کئے جاسکتے ہیں اور جب کوئی ہنگامی کام نہ ہو تو آمد بھی اصل رقم میں ملائی جا سکتی ہے۔جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک ہنگامی کاموں کے لئے بہت بڑی رقم خلیفہ کے ماتحت نہ ہو بھی ایسے کام جو سلسلہ کی وسعت اور عظمت کو قائم کریں نہیں ہو سکتے۔بارھواں مطالبہ یہ ہے کہ جب یہ کام کئے جائیں گے تو مرکز میں کام بڑھے گا۔کئی باہر کے لوگ جو کہتے ہیں کہ یہاں کارکنوں کو کم کام کرنا پڑتا ہے ، ان سے میں کہا کرتا ہوں کہ خود یہاں آکر کام کرو اور جب کوئی آکر کام کرتا ہے تو پھر کہتا ہے یہاں تو بڑا کام کرنا پڑتا ہے۔کل ہی خان صاحب فرزند علی صاحب مجھ سے کہہ رہے تھے کہ جتنا کام نظارت امور عامہ کا کرنا پڑتا ہے میں نے اپنی ملازمت کے 15 ( یا میں سال کہا) آخری سالوں میں اتنا زیادہ کام نہیں کیا۔تو کام تو یہاں ہے اور بہت بڑا کام ہے۔میں صبح اپنے دفتر میں آکر کام شروع کرتا ہوں رُفعے اور ڈاک اور دفتروں کے کاغذات دیکھتا ہوں۔پھر ملاقات کرنے والوں سے ملاقات کرتا ہوں اس میں دفتر کے اوقات کے چھ سات گھنٹے صرف ہو جاتے ہیں اور کسی کام کے لئے کوئی وقت نہیں بچتا۔پھر لوگ امید رکھتے ہیں کہ میں سکیمیں پیش کروں ، ان کی نگرانی کروں ، تقاریر کروں اور تصانیف بھی کروں۔اس میں شبہ نہیں کہ خلیفہ ایک ہی ہوسکتا ہے۔ناظروں کی طرح زیادہ خلیفے نہیں ہو سکتے لیکن اگر خلیفہ کے ماتحت زیادہ کام کرنے والے ہوں تو اس تک گو معاملات پھر بھی آئیں گے 67