تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 707 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 707

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1939ء اسی طرح اس تحریک کی بنیاد بھی آج چند ہزار روپوں پر ہے۔جو چندہ آتا ہے اس میں سے اخراجات کو نکال کر جو روپیہ بچتا ہے موجودہ اندازہ کے مطابق اس سے اسی قدر مستقل فنڈ قائم کیا جاسکتا ہے کہ جس سے ساٹھ ستر ہزار روپیہ کی سالانہ آمد ہو سکے اور یہ اس کے لئے کافی ہے کہ اس وقت جو مشن ہمارے مد نظر ہیں یعنی جن کیلئے اس وقت مجاہدین ٹرینینگ لے رہے ہیں انہیں قائم کیا جا سکے۔یہ زیادہ سے زیادہ 25-30 نئے مشن ہوں گے اور اگر دیکھا جائے تو یہ کچھ بھی نہیں اس جدو جہد کے مقابلہ میں جو اس وقت عیسائی کر رہے ہیں۔اس وقت 65 ہزار عیسائی مبلغ دنیا کے مختلف حصوں میں کام کر رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ ان کے مقابلہ میں ہمارے 25-30 مبلغوں سے کیا بنے گا مگر ہمیں امید ہے کہ خدا تعالٰی ہمیں ضرور ترقی دے گا اور جس طرح خدا تعالیٰ نے اتنا مستقل فنڈ قائم کرنے کا سامان کر دیا ہے جبکہ پہلے ایک روپیہ بھی اس فنڈ میں نہ تھا تو اسے اس کو اور بڑھانے سے کون روک سکتا ہے؟ وہ ضرور اسے کسی وقت لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں تک ترقی دے گا اور ایک وقت آئے گا کہ ہمارا تبلیغی فنڈ دنیا کی بڑی بڑی حکومتوں کے خزانوں سے بھی زیاد ہوگا۔جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ احمد بیت کو اتنی ترقی دے گا کہ ساری دنیا کی اقوام مل کر بھی اس کے مقابلہ میں ادنی اقوام کی حیثیت رکھیں گی اسی طرح وہ اس کے فنڈوں کو دنیا کی حکومتوں کے خزانوں سے زیادہ مضبوط بنادے گا اور وہ اسے ضرور بڑھائے گا“۔و عربی میں ضرب المثل ہے اَلْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْاَعْدَاء یعنی فضیلت وہی ہے جس کی دشمن گواہی دے۔جب میں شام گیا تو وہاں عبد القادر المغر بی جو بہت بڑے اور مشہور ادیب ہیں مجھ سے ملنے کیلئے آئے جس وقت وہ آئے ایک اور شخص مجھ سے بات چیت کر رہا تھا۔وہ بیٹھے گفتگو سنتے رہے اور پھر اسے کہنے لگے کہ ان سے بحث مت کرو۔یہ ہمارے وطن میں آئے ہیں ہمارا فرض ہے کہ ان کا اعزاز کریں۔مذہبی باتیں ان سے نہیں کرنی چاہئیں اور پھر ان باتوں کا فائدہ بھی کیا ہے۔یہ ہندوستان کے رہنے والے ہیں جو جاہل ملک ہے، جہاں کے لوگ نہ قرآن کریم سے واقف ہیں اور نہ عربی سے جو قرآن کریم کی زبان ہے اور ان کی باتوں کا ہم لوگوں پر اثر بھی کیا ہو سکتا ہے جن کی مادری زبان عربی ہے؟ اس لئے ان کے ساتھ بحث کر کے خواہ مخواہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ یا درکھیں کہ میں واپس جا کر یہاں اپنا مبلغ بھیجوں گا اور اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا کہ جب تک یہاں جماعت قائم نہ ہو اور آپ اسے دیکھ نہ لیں کہ اس ملک کے رہنے والے بھی ہماری باتوں پر ایمان لاتے ہیں۔چنانچہ میں نے وہاں پر مبلغ بھیجا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی زندگی میں ہی وہاں جماعتیں قائم ہو گئیں۔اب تو مجھے معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا مر گئے لیکن جماعتیں وہاں ان کی زندگی میں ہی قائم ہو 707