تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 708 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 708

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 24 نومبر 1939ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول گئی تھیں اور اب شام، فلسطین، مصر وغیرہ ممالک میں ایسے ایسے خلص احمدی موجود ہیں کہ ان پر رشک آتا ہے۔ان میں ایسے بھی ہیں جن کو احمدیت کی وجہ سے قتل کیا گیا، ایسے بھی ہیں جو زخمی کئے گئے ، ایسے بھی ہیں جو ملک بدر کئے گئے اور جن کی جائیدادیں اور مال و اسباب لوٹ لئے گئے مگر وہ پھر بھی استقلال اور ہمت کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہیں اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کو ہر جگہ ترقی حاصل ہو رہی ہے۔پس ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پیج کو جو آج ہم بور ہے ہیں ضرور ترقی دے گا۔ہمارا فرض صرف یہی ہے کہ بیج بونے کی پوری پوری کوششیں کریں۔وو فہرست میں تو وہی شخص آئے گا جو دس سالہ میعاد کو پورا کرے گا اور انہی لوگوں کے ثواب کو لمبا کرنے کی ہم کوئی صورت کریں گے۔تو اس فہرست میں وہی شامل ہوں گے جو شرائط کے ماتحت اس تحریک میں حصہ لیتے رہیں گے سوائے ان کے جو فوت ہو گئے اور جب تک وہ زندہ رہے برابر شرائط کے ما تحت حصہ لیتے رہے۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ (الاحزاب : 24) پس ایسا شخص جو زندگی میں برابر حصہ لیتا رہا اور پھر فوت ہو گیا وہ آخر تک شامل سمجھا جائے گا۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ جو لوگ دین کی خدمت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں وہ زندہ ہی سمجھے جاتے ہیں۔وہ ان کے برابر ثواب پاتے ہیں جو زندہ ہیں اور نمازیں پڑھتے ، روزے رکھتے ، جہاد کرتے یا ثواب کے دوسرے کام کرتے ہیں۔جو نیک کام وہ دنیا میں کرتے تھے اس کا ثواب ان کو برابر ملتا رہتا ہے۔پس جو فوت ہو گئے ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں۔وہ دس سالہ میعاد میں شامل سمجھا جائے گا۔اس کی نسیت کے مطابق اس کو اجر ملے گا خواہ وہ ایک سال ہی دینے کے بعد فوت ہو گیا مگر چونکہ اس کی نیت آخر تک شامل ہونے کی تھی اس لئے اسے نیت کا ثواب مل جائے گا بشرطیکہ جب تک وہ زندہ رہا شریک رہا ہو۔یاد رکھو کہ یہ تحریک خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس لئے وہ اسے ضرور ترقی دے گا اور اس کی راہ میں جو روکیں ہوں گی ان کو بھی دور کر دے گا اور اگر زمین سے اس کے سامان پیدا نہ ہوں گے تو آسمان سے خدا تعالیٰ اس کو برکت دے گا اور مبارک ہیں وہ جو بڑھ بڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیتے ہیں کیونکہ ان کا نام ادب اور احترام سے اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا اور خدا تعالیٰ کے دربار میں یہ لوگ خاص عزت کا مقام پائیں گے کیونکہ انہوں نے خود تکلیف اٹھا کر دین کی مضبوطی کے لئے کوشش کی اور ان کی اولادوں کا اللہ تعالیٰ خود متکفل ہوگا اور آسمانی نور ان کے سینوں سے ابل کر نکلتا گا اور دنیا کو روشن کرتا رہے گا“۔( مطبوع الفضل 30 نومبر 1939ء) رہے 708