تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 706
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 24 نومبر 1939ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہی قلیل تعداد اور کمزور حالت میں رہ جائیں گے جس حالت میں آج ہندوستان میں ادنی کہلانے والی اقوام ہیں مگر یہ چیز ہمیں جادو سے حاصل نہیں ہو جائے گی۔یہ نہیں ہو گا کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اتر کر مداری کی طرح کوئی ڈنڈ ہلائیں گے اور دنیا میں احمدیت کو غلبہ حاصل ہو جائے گا بلکہ یہ اسی طرح ہوگا جس طرح ہمیشہ سے قاعدہ چلا آتا ہے۔اس جماعت کو ترقی اسی طرح ہوگی جس طرح کہ الہی سلسلوں کو ہوتی ہے اور یہ ہماری جد و جہد اور قربانیوں سے ہوگی۔ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ چونکہ خدا تعالیٰ کی قضا و قدر ہے اس لئے ضرور ہو کر رہے گی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جماعت میں کمزوریاں ہیں، اس کی رفتار ترقی بہت ست ہے، یہ کس طرح ساری دنیا میں پھیل سکے گی ؟ یہ لوگ دنیا میں اس قدر انقلاب کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ مگر سوال یہ نہیں کہ ہماری حالت کیسی ہے اور طاقت کتنی ہے بلکہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے ، وہ خود ایسے لوگ پیدا کر دے گا جو دنیا کا تختہ الٹ کر رکھ دیں گئے“۔" کسی چیز کو بڑھانا یا گھٹانا اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے اور اس کا قانون یہی ہے کہ جب وہ کسی چیز کو ترقی دینا چاہتا ہے تو اس کے بیج کو بڑھا دیتا ہے۔جب وہ ایک بیج ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ اس سے سینکڑوں کیسے بنیں گے اور جب سینکڑوں ہو جائیں تو کہتے ہیں اس سے ہزاروں کیونکر ہوں گے۔پھر ہزاروں سے لاکھوں، لاکھوں سے کروڑوں اور کروڑوں سے اربوں تک بڑھنے میں شک کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اسی طرح بڑھاتا چلا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعوی کیا تو دنیا حیران تھی اور کہتی تھی کہ ایک سے دو کس طرح ہوں گے۔کوئی دوسرا شخص ایسا نہیں ہو گا جو ان عقائد کو مان لے لیکن جب چند لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو گئے تو دنیا نے کہا کہ چالیس پچاس پاگل تو دنیا میں ہو سکتے ہیں مگر یہ آخری حد ہے اس سے زیادہ نہیں بڑھ سکتے اور جب یہ تعداد سینکڑوں تک جا پہنچی تو کہا جانے لگا کہ دنیا میں پاگلوں کے علاوہ بعض احمق بھی ہوتے ہیں جو شریک ہو گئے ہیں مگر ساری دنیا تو عقل مندی کو نہیں چھوڑ سکتی ، اب ان کی تعداد نہیں بڑھ سکتی اور جب جماعت ہزاروں تک پہنچ گئی تو کہا گیا کہ بعض اچھے بھلے سمجھدار لوگ بھی دھوکہ کھا سکتے ہیں مگر اب یہ لوگ لاکھوں تک نہیں پہنچ سکتے اور اب حیران ہیں کہ یہ کروڑوں کس طرح ہوں گے؟ اور یہ نہیں سوچتے کہ جس طرح ایک سے دسیوں ، دسیوں سے سینکڑوں سینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں ہوئے اسی طرح اب لاکھوں سے کروڑوں اور کروڑوں سے اربوں ہو جائیں گے اور خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہو کر ان کو اسی طرح بڑھاتا چلا جائے گا اور کون ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل کو روک سکے؟ 706