تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 692 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 692

خطبہ جمعہ فرمود و 30 جون 1939ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کامیاب نہیں ہو سکتے۔وہ بالعموم نا کام رہتے ہیں اور ان کے کاموں میں سستی پیدا ہو جاتی ہے۔جس طرح وہ لوگ جو اس انتظار میں رہتے ہیں کہ آخری وقت پر نماز ادا کرلیں گے بسا اوقات محروم رہ جاتے ہیں وہ انتظار ہی کرتے رہتے ہیں اور سورج چڑھ آتا ہے یا عصر کا وقت ہوتا ہے تو سورج غروب ہو جاتا ہے۔پس کوشش کرنی چاہئے کہ نیکی کو وقت پر ادا کیا جائے اور نیکی کے معاملہ میں تجھیل سے کام لیا جائے۔میں نے بار ہا وہ مثال دی ہے کہ جب ایک مخلص صحابی با وجود تیاری جنگ کی طاقت رکھنے کے اس خیال سے تاخیر کرتے رہے کہ بعد میں تیاری کرلوں گا لیکن بعد میں ایسے مواقع پیش آگئے کہ نہ کر سکے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جہاد کے ثواب سے الگ محروم رہے اور خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کے مورد علیحدہ ہوئے۔حتی کہ ایسے تین صحابہ کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بائیکاٹ کیا گیا۔ان کے عزیز ترین دوستوں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا بلکہ بعض کی بیویوں نے بھی بائیکاٹ کر دیا اور مسلمانوں کا ان سے بات چیت کرنا تو الگ رہا وہ ان کے متعلق کوئی اشارہ کرنا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے نیکی کرنے میں سستی سے کام لیا۔حالانکہ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس سامان موجود تھا مگر صرف ستی سے کام لیا اور کہا کہ میں تیاری کرلوں گا سب سامان میرے پاس موجود ہے۔تو جب کوئی شخص نیکی میں تاخیر کرتا ہے تو اگر اس کے اندر کبر اور خود پسندی کا مادہ پیدا ہو جائے تو بعد میں اللہ تعالی اسے ثواب سے بھی محروم کر دیتا ہے اور اگر یہ نہ بھی ہو تو بھی کم سے کم ثواب کے اتنے دن تو گئے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے رستہ میں خرچ کرتے اور اسے قرض دیتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو وہی بڑھا کر واپس کرتا ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے اور اسے زیادہ نہ ملے۔جس طرح کھیت میں بیج ڈالا جاتا ہے تو اس کے ایک ایک دانے سے ستر ستر دانے نکلتے ہیں اسی طرح جو شخص دین کی راہ میں قربانی کرتا ہے اسے ایک ایک کے ستر ستر بلکہ اس سے بھی زیادہ ملتے ہیں مگر بعض نادان اس امید میں رہتے ہیں کہ انہیں ایک کے ستر اسی دنیا میں مل جائیں۔حالانکہ اس دنیا کی نعماء کی اخروی نعمتوں کے مقابلہ میں کوئی بھی حیثیت نہیں۔اگر یہاں ایک کے ستر بلکہ سات سو بھی مل جائیں تو وہ اتنے مفید نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کا اثر محدود ہوگا۔اگر انسان کی اوسط عمر ستر سال بھی فرض کر لی جائے جو اس زمانہ میں ناممکن ہے، ہندوستان میں اوسط عمر میں بلکہ ستائیس سمجھی جاتی ہے لیکن اگر بفرض محال ستر سال بھی تسلیم کر لی جائے تو یہ عرصہ اس لمبے اور غیر محدود عرصہ کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں جو موت کے بعد شروع ہوتا ہے۔یہاں یہ نعمتیں کس کام آسکتی ہیں اور اس محدود عرصہ میں ان سے کیا فائدہ اٹھایا جاسکتا 692