تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 674 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 674

اقتباس از تقریر فرموده 16 اپریل 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول سر دست مالی مشکلات اور عملہ کی وقتوں کو دور کرنے کا یہ اچھا ذریعہ ہے۔اس کے بعد جب حالات درست ہوں، بالکل ممکن ہے کہ ضروری ماحول ہائی سکول میں ہی پیدا کرنے کی رائج الوقت قانون اجازت دے دے یا پھر نئے سرے سے مدرسہ کی جماعتیں کھول دی جائیں۔چھوٹی جماعتیں ہر وقت آسانی سے کھولی جاسکتی ہیں۔اس میں کوئی دقت نہیں ہے۔اس تجویز سے یہ بھی فائدہ ہوگا کہ انگریزی تعلیم کی زیادتی کی وجہ سے ان طلباء کو مولوی فاضل کے بعد بی۔اے کرنے میں دقت نہ ہوگی اور جوسرکاری ملازمتیں کرنا چاہیں گے ، انہیں اس میں آسانی رہے گی۔(۲) آئندہ جو نئے کارکن لئے جائیں ، وہ حتی الوسع وقف کنندگان میں سے لئے جائیں جو تحریک جدید کی شرائط کے ماتحت اپنے آپ کو پیش کریں اور اس طرح ایسے بجٹوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے جو باقاعدہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ہاں یہ اصول مد نظر رہنا چاہئے کہ ایک خاص فنڈ ایسے لوگوں کی خاص ضرورتوں کے لئے کھول دیا جائے جیسے شادی بیاہ ہے، خاص بیماری ہے یا وفات کی صورت میں بچوں کا گزارہ ہے۔مکان کی ضروریات ہیں اور ایسے فنڈ کے لئے مثلاً دس فیصدی سلسلہ کی آمد ریز روفنڈ کے طور پر جمع ہوتی جائے۔موجودہ کارکنوں میں بھی اس قسم کے اصول پر کام کرنے کی تحریک کی جائے۔لیکن جو اپنی خوشی سے اس کے لئے تیار نہ ہوں انہیں مجبور نہ کیا جائے۔جو پرانے کارکنوں میں سے وقف کریں ان کی تنخواہوں میں تنزل نہ کیا جائے۔ہاں آئندہ ترقیات بند کی جائیں اور امداد صرف اس اصل پر دی جائے کہ رقم زیادہ ہو جائے تو بطور خاص بونس یعنی عطیہ کے رقم دی جائے۔اگر روپیہ آ گیا تو امداد ملے ورنہ نہیں۔ایسے لوگوں کو جو وقف کنندہ نہ ہوں ملازمت میں توسیع نہ دی جائے۔بناوٹ اور نمائش کو بند کرنے کے لئے یہ قاعدہ ہو کہ صرف وہی لوگ وقف کر سکتے ہیں جو ابھی اپنے گریڈ کی انتہاء کو نہیں پہنچے۔جو گریڈ کی انتہاء کو پہنچ چکے ہوں ان کے لئے وقف بے معنی ہو جاتا ہے۔(۱) ہر غیر شادی شدہ کارکن کو پندرہ روپیہ ماہوار ، شادی شدہ کو ہمیں اور چار بچوں تک تین روپیہ ماہوار کی زیادتی ہو کر آخری رقم گزارہ کی بتیس روپیہ ہوگی۔یہ رقم گریجوایٹ اور غیر گریجوایٹ سب کے لئے یکساں ہوگی۔(۲) اگر کسی نفع رساں کام پر کسی وقف کنندہ کو لگایا جائے گا تو علاوہ گزارہ کے نفع میں سے بھی اسے حصہ دیا جائے گا۔(۳) اگر خدانخواستہ کسی وقت اس قدر گزارہ بھی ان کو نہ دیا جا سکے تو حسب وعده وقف کنندگان 674