تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 673 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 673

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرمودہ 16 اپریل 1938ء جس کا حل اس وقت ہمارے پاس نہیں ہے اور وہ یہ کہ مالی وقت کی وجہ سے مدرسہ کا عملہ ہمیشہ ایسا مقرر ہوتا رہا ہے جو حساب، جغرافیہ وغیرہ کی اعلیٰ لیاقت پیدا کرنے کا اہل نہ تھا اور اسی طرح انگریزی کی اعلیٰ تعلیم جس کے نتیجہ میں مبلغ انگریزی لیکچر وغیرہ دے سکیں کبھی نہیں دی گئی اور موجودہ حالت میں نہیں دی جاسکتی۔نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مدرسہ احمدیہ کے سات سالہ نصاب اور جامعہ کے چار سالہ نصاب کے باوجود ان کی انگریزی اور دنیوی واقعیت بالکل کم ہوتی ہے۔دوسری طرف ہائی سکول میں یہ نقص ہوا ہے کہ اس کے لئے دینیات کا اعلیٰ عملہ مہیا نہیں کیا گیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ وہاں سے طلبا د مینیات کی نا مکمل تعلیم پا کر نکلتے ہیں۔پس ان حالات کو دیکھتے ہوئے ) کہ ابھی ہماری مالی حالت ایسی نہیں کہ دو بوجھ ایک وقت میں اٹھا سکیں) اس وقت تک کے لئے کہ اللہ تعالیٰ ہماری مالی حالت کو اچھا کرے، میری تجویز یہ ہے کہ آئندہ انٹرنس پاس طلبا مدرسہ احمدیہ میں داخل کئے جائیں اور صرف تین سال کا کورس ہو۔آئندہ چار سال تک ترتیب کے ساتھ نئی جماعت کا داخلہ روک دیا جائے۔اس طرح چار سال میں مدرسہ کی تین جماعتیں رہ جائیں گی اور انٹرنس پاس طلبا لئے جانے شروع ہو جائیں گے۔آج سے چار سال بعد انٹرنس پاس طلباء پانچویں جماعت میں داخل کئے جائیں جو آئندہ مدرسہ کی پہلی کلاس ، ہوگی تمام و نیوی علوم جواب پڑھائے جاتے ہیں، وہ اڑادیئے جائیں۔سوائے انگریزی کے جو کالج کی لیاقت کے برابر ہو۔جس کے لئے ایک لائق پروفیسر مقرر کیا جائے۔اگر کسی وقف کنندہ کو انگلستان میں تعلیم دلائی جائے تو وہ معمولی گزارہ لے کر کام کر سکے گا اور خرچ میں بھی کوئی خاص زیادتی نہ ہوگی۔نصاب میں اس امر کو مد نظر رکھا جائے کہ انگریزی میں کم سے کم ایف۔اے تک کی لیاقت مولوی فاضل پاس کرنے تک لڑکوں میں پیدا ہو جائے۔جو پانچ سال کے تعلیمی عرصہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی مشکل امر نہیں۔صرف اچھے پروفیسر کی ضرورت ہوگی۔اس دوران میں موجودہ عملہ کو دوسری جگہوں میں جذب کرنے کی کوشش کی جائے اور آہستہ آہستہ جب سب عملہ جذب ہو جائے یا ریٹائر ہو جائے تو یہ بھی کوشش کی جائے کہ مدرسہ کو کالج میں جذب کر دیا جائے اور صرف چار جماعتیں کر دی جائیں یا پانچ ہی رہیں اور شروع سے ہی طب کی تعلیم کو نصاب میں شامل کر لیا جائے۔اس تجویز پر عمل کر کے چار سال کے عرصہ تک مدرسوں اور وظائف وغیرہ کی تخفیف سے میں سمجھتا ہوں کافی تخفیف ہو جائے گی اور چونکہ بنیاد اس تعلیم کی ہائی سکول ہو گا۔اس کی دینیات کی طرف زیادہ توجہ ہو جائے گی اور یہ زائد فائدہ ہوگا۔جیسا میں نے کہا ہے میں دینیات کے ماحول کو بچپن سے شروع کرنا پسند کرتا ہوں۔لیکن 673