تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 56
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول جنبش میں آ جائے گی اور خواہ کتنی ہی ہلکی ہو محبت الہی کی ایک بار یک شعاع اڑ کر خدا کی محبت کے سورج میں جا جذب ہوگی۔ایک سال میں دو سونئی جماعتوں کا قائم ہو جانا معمولی بات نہیں اس طرح اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو چار پانچ سال میں ہی عظیم الشان تغیر پیدا ہو جائے گا۔مبلغین کو ہم اس طرف نہیں لگا سکتے ان کی بہت تھوڑی تعداد ہے۔پھر ان کے ذمہ مباحثات اور جماعت کی تربیت کا کام ہے ان کی مثال تو اس دانے کی سی ہے جس کی نسبت کہتے ہیں: ایک دانہ کس کس نے کھانا۔“ تبلیغ کی وسعت کے لئے ایک نیا سلسلہ مبلغین کا ہونا چاہئے اور وہ یہی ہے کہ سرکاری ملازم تین تین ماہ کی چھٹیاں لے کر اپنے آپ کو پیش کریں تا کہ ان کو وہاں بھیج دیا جائے جہاں ان کی ملازمت کا طہ اور تعلق نہ ہو مثلاً گورداسپور کے ضلع میں ملازمت کرنے والا امرت سر کے ضلع میں بھیج دیا جائے ، امرت سر کے ضلع میں ملازمت کرنے والا کانگڑہ یا ہوشیار پور کے ضلع میں کام کرے۔گویا اپنے ملازمت کے علاقہ سے باہر ایسی جگہ کام کرے جہاں ابھی تک احمدیت کی اشاعت نہیں ہوئی اور وہاں تین ماہ رہ کر تبلیغ کرے۔میں سمجھتا ہوں وہ جماعت جو یہ کہتی ہے کہ وہ جان اور مال کی قربانیاں کرنے کیلئے ہر طرح تیار ہے اس کیلئے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ اس میں سے چار سو اصحاب ایسے نکلیں جو اپنی تین تین ماہ کی رخصت اپنے گھروں میں نہ گزاریں بلکہ دوسری جگہ دین کی خدمت میں صرف کریں وہاں بھی وہ اپنے ملازمت کے کام سے آرام پاسکتے ہیں۔ہاں زیادہ بات یہ ہوگی کہ وہاں ان کے ذریعہ جو جماعت قائم ہوگی اس کے نیک اعمال ان کے نامہ اعمال میں بھی لکھے جائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو کسی کے ذریعہ ہدایت پاتا ہے اس کے نیک اعمال اس کے نامہ اعمال میں بھی لکھے جاتے ہیں جس کے ذریعہ اسے ہدایت ملتی ہے۔پس اس سکیم پر عمل کرنے سے ایسے شاندار نتائج نکل سکتے ہیں جو باقاعدہ مبلغین کے ذریعہ پیدا نہیں ہو سکتے اور ملک کے ہر گوشہ میں احمدیت کی صدا گونج سکتی ہے۔ایسے اصحاب کا فرض ہوگا کہ جس طرح مالکانہ تحریک کے وقت ہوا ، وہ اپنا خرچ آپ برداشت کریں۔ہم اس بات کو مد نظر رکھیں گے کہ انہیں اتنی دور بھیجا جائے کہ ان کے لئے سفر کے اخراجات برداشت کرنے مشکل نہ ہوں اور اگر کسی کو کسی دور جگہ بھیجا گیا تو کسی قدر بوجھ اخراجات سفر کا سلسلہ برداشت کرلے گا اور باقی اخراجات کھانے، پینے، پہننے کے وہ خود برداشت کریں۔ان کو کوئی تنخواہ نہ دی جائے گی نہ کوئی کرایہ سوائے اس کے جسے بہت دور بھیجا جائے۔آٹھواں مطالبہ وہ ہے جو پہلے شائع ہو چکا ہے یعنی ایسے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں جو تین 56