تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 57
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔اس وقت تک سوا سو کے قریب نوجوان اپنے آپ کو پیش کر چکے ہیں۔جن میں سے 40،30 مولوی فاضل ہیں۔باقی انٹرنس۔ایف اے اور بی اے پاس ہیں۔یہ تعداد روزانہ بڑھ رہی ہے اور میں سمجھتا ہوں یہ قربانی کی روح کہ تین سال کے لئے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا جائے ، اسلام اور ایمان کے رُو سے تو کچھ نہیں لیکن موجودہ زمانہ کی حالت کے لحاظ سے حیرت انگیز ہے۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ جماعت احمد یہ میں لوگ روپیہ حاصل کرنے کیلئے شامل ہیں۔اگر چہ ان کی یہ بات بے وقوفی کی ہے کیونکہ اگر احمدی روپیہ کی خاطر احمدی ہیں تو انہیں روپیہ دیتا کون ہے؟ مگر یہ ان کی آنکھیں کھول دینے والی بات ہے کہ جب احمدی نو جوانوں کو تین سال کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنے کے لئے بلایا گیا تو مولوی فاضل، انٹرنس پاس، ایف اے اور بی اے سینکڑوں کی تعداد میں اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں۔اس قسم کی مثال کسی ایسی قوم میں بھی جو جماعت احمدیہ سے سینکڑوں گنے زیادہ ہولنی محال ہے۔وہی جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آٹھ نو کروڑ مسلمانان ہند کے نمائندے ہیں ایسی مثال تو پیش کریں! وہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے ریاست کشمیر کے خلاف ایجی ٹیشن کے دوران میں ہزاروں آدمیوں کو قید کر دیا تھا لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا قید ہونے کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دینا اور بات ہے اور کسی مسلسل قربانی کے لئے پیش کرنا اور بات۔فوری اشتعال دلا کر تو بزدلوں کو بھی لڑایا جا سکتا ہے۔بدر کی جنگ میں مکہ کے جو رو سا شریک ہوئے ان میں اکثر کا یہ خیال ہو گیا تھا کہ جنگ نہ ہو۔انہوں نے کہا مسلمان بھی ہمارے ہی بھائی بند ہیں۔اگر جنگ ہوئی تو یہی ہوگا کہ ہم ایک دوسرے کو قتل کریں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب لوگ تیار ہو گئے کہ صلح کرلیں مگر ابو جہل جو اس ساری شرارت کا روح رواں تھا مخالفت کرنے لگا اور لوگوں نے اسے سمجھایا کہ جنگ کرنے سے ہماری طاقت بڑھے گی نہیں بلکہ گھٹے گی۔ابو جہل نے اپنا منصوبہ بگڑتا دیکھ کر ایک رئیس جو مسلمانوں کے ہاتھ سے کچھ عرصہ پہلے مارا گیا تھا اس کے بھائی بندوں میں جوش پیدا کرنا چاہا۔دوسرے رؤسانے انہیں بلا کر کہا کہ ہم میں دیت کا رواج ہے ہم تمہارے مقتول کی دیت ادا کر دیتے ہیں۔اس پر وہ دیت لینے کے لئے تیار ہو گئے تب ابو جہل نے اور شرارت کی اُس نے مقتول کے ایک بھائی کو بلا کر کہا کہ تمہارے بھائی کا بدلہ لئے بغیر فوج واپس لوٹنا چاہتی ہے اگر ایسا ہوا تو تم کسی کو منہ نہ دکھا سکو گے۔اس نے کہا پھر میں کیا کروں؟ عرب میں طریق تھا کہ جب کوئی اپنی مظلومیت اور مصیبت کی فریاد کرنا چاہتا تو نگا ہوکر رونا پیٹنا اور واویلا کرنا شروع کر دیتا۔ابو جہل نے کہا تم ننگے ہو کر پیٹنا شروع کر دو! اس نے ایسا ہی کیا وہ ننگا ہو کر 57