تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 55
یک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمود و 30 نومبر 1934ء ہو یعنی ایسی ریز رو فورس ہو کہ ضرورت پڑنے پر اس سے کام لے سکیں اور مبلغین کے کام کے علاوہ اس کے ذریعہ اپنی ضرورتیں پوری کریں۔سمجھ لو کہ اس وقت پنجاب میں جماعت کی تعداد 56 ہزار ہی ہے جیسا کہ مردم شماری کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے اسی نسبت سے سارے ہندوستان میں ایک لاکھ احمدی سمجھ لوتب بھی ان میں سے دس ہزار عاقل بالغ مرد، بوڑھے، بچے اور عور تیں نکال کر ہوتے ہیں یہ وہ کم سے کم تعداد ہے جو میسر آسکتی ہے۔اس میں سے کم از کم ایک ہزار سرکاری ملازم ہوں گے اور سرکاری ملازموں کو کچھ نہ کچھ رخصتیں ملتی ہیں۔بعض اس قسم کے ملازم ہوتے ہیں کہ اگر ایک سال رخصت نہ لیں ، دوسرے سال بھی نہ لیں، تیسرے سال تین ماہ کی رخصت مل جاتی ہے۔اگر چار سو بھی ایسے ہوں جن کی رخصتیں اس طرح جمع پڑی ہوں یا قریب کے عرصہ میں جمع ہونے والی ہوں اور وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے ان رخصتوں کو وقف کر دیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ایک سال کے لئے کام کرنے والے سو مبلغ مل گئے۔ایسے اصحاب تین تین ماہ کی چھٹیاں لے لیں اور ان چھٹیوں کو سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کر دیں۔پھر ہم انہیں جہاں چاہیں تبلیغ کے لئے بھیج دیں اگر چار سو ایسے اصحاب اپنے آپ کو پیش کریں تو ایک سو مبلغ سال بھر کام کرنے والے اور اگر دوسو پیش کریں تو پچاس مبلغ ایک وقت میں سال بھر کام کر سکتے ہیں اور اس طرح تبلیغ کے لئے اچھی خاصی طاقت حاصل ہو سکتی ہے۔ان کے متعلق میری سکیم یہ ہے کہ ان کو ایسی جگہ بھیجیں جہاں احمدی جماعتیں نہیں اور جہاں تین ماہ ایک اکیلا احمدی رہے گا جس کا دن رات کام تبلیغ کرنا ہو گا۔ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں نئی جماعت نہ قائم ہو جائے۔اگر دو سو اصحاب بھی اپنے آپ کو پیش کریں تو پچاس کو ایک وقت میں تبلیغ کے لئے پچاس نئے مقامات پر بھیج سکتے ہیں کہ وہاں تبلیغ کرو اس طرح تین ماہ میں پچاس نئی جماعتیں قائم ہو جائیں گی۔اگلے تین ماہ میں پچاس اور پچاس مقامات پر بھیج دیں گے۔اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک سال میں دو سو مقامات پر نئی جماعتیں قائم ہو سکتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک احمدی میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ جس طرح ڈائنامیٹ کے ذریعہ چٹان کو اُڑا دیا جاتا ہے اسی طرح احمدی کا وجود ڈائنامیٹ کی حیثیت رکھتا ہے جو تاریکی اور ظلمت کو مٹا دیتا ہے، نئی فضا پیدا کر دیتا ہے اور نیا ماحول بنا دیتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ جہاں نئی جماعت قائم ہوگی وہاں مخالفت بھی بڑھ جائے گی، لوگ پہلے سے زیادہ گالیاں دینے لگ جائیں گے، احمدیوں کو مارنے پیٹنے پر اتر آئیں گے ، زنگ آلود دلوں کے زنگ اور ترقی کریں گے اور ان کی رُوح کی موت اور بھیانک شکل اختیار کرلے گی مگر باوجود اس کے ایک طبقہ ایسا بھی پیدا ہو جائے گا جس کے دل ہل جائیں گے اور جس کی رُوح کو 55