تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 663
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از تقریر فرموده 16 اپریل 1938ء مبلغ وہ ہے جس کے دل کی ایمان کی حالت انبیاء کے ایمان کی مثل ہو تقریر فرمودہ 16 اپریل 1938ء بر موقع مجلس شوری تحریک جدید کے پہلے مبلغین کے انتخاب کے وقت صرف دیکھا جاتا تھا کہ جرات کے ساتھ کام کرنے کا مادہ ہو، لیاقت کا زیادہ خیال نہیں رکھا گیا تھا۔اس وقت ایسے آدمی کی ضرورت تھی جو دلیری کے ساتھ آگ میں اپنے آپ کو ڈال دینے والا ہو۔چنانچہ ایسے لوگوں کو منتخب کر کے ہم نے بھیج دیا اور وہ مقصد حاصل بھی ہو گیا۔ان میں سے بعض دینی علوم اور عربی سے بھی اچھی طرح واقف نہ تھے بلکہ بعض کا تقویٰ کا معیار بھی اتنا بلند نہ تھا مگر اس وقت ہمیں صرف آواز پہنچانا تھی اور دشمن کو یہ بتانا تھا کہ ہمارے پاس ایسے نوجوان ہیں جو اپنا آرام و آسائش اپنا وطن عزیز واقارب، بیوی بچوں غرضیکہ کسی چیز کی پروانہ کرتے ہوئے نکل جائیں گے۔بھوکے پیاسے رہیں گے اور دین کی خدمت کریں گے۔ایسی قوم کو جس میں ایسے نو جوان ہوں مار دینا ناممکن ہوتا ہے۔چنانچہ ہم نے یہ دکھا دیا۔بعض نو جوان برائے نام گزارے لے کر اور بعض یونہی باہر چلے گئے اور اس طرح ہمارا خرچ بارہ مشنوں پر قریباً ایک مشن کے خرچ برابر ہے۔لیکن جب وہ زمانہ گزر گیا اور جب ہم نے یہ بتا دیا کہ ہمارے پاس ایسے نوجوان ہیں جو ہر وقت لبیک کہنے پر آمادہ ہیں تو اس کے بعد اب دوسرا انتخاب کیا جاتا ہے۔باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے۔زیادہ معین قانون بنا دیئے گئے ہیں اور اب بھی ہمیں ایسے نو جوان مل رہے ہیں۔پس اس جماعت کو مد نظر رکھتے ہوئے تبلیغ میں کمی نہیں ہوئی بلکہ صرف طریق تبدیل کیا گیا ہے اور زیادہ خرچ والا طریق چھوڑ کر کم خرچ والا اختیار کیا گیا ہے۔وقف کرنے والے نوجوانوں سے کام لیا جارہا ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ وقف کا صحیح مفہوم بھی نہیں سمجھتے۔وہ اپنے چھوٹے بچوں کو جو دین کے نام سے بھی ناواقف ہوتے ہیں، لے آتے ہیں کہ ہم اسے وقف کرتے ہیں اور میں کہہ دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی نیت کا آپ کو بدلہ دے اور لڑکے کو تو فیق دے کہ بڑا ہو کر آپ کے خیالات سے اتفاق کرنے والا ہو اور یہ وقف کی رسم ختم ہو جاتی ہے لیکن بعض لوگ عزت کو دین کا جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔وہ محض اس لئے وقف کا لفظ استعمال کرتے ہیں کہ لڑکے کی تعلیم کا انتظام ہو جائے۔میں جب کہتا ہوں کہ اچھا ہم اسے کسی کام پر لگا لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ نہیں جی ہم نے تو 663